صاحبِ اولاد ہو کر بھی بانجھ

ذاتی_مطالعہ 75

تحفة المودود باحكام المولود میں ابن قیم نے لکھا یعقوب بن بختان نے فرمایا میری سات بیٹیاں پیدا ہوئیں
جب بھی بیٹی پیدا ہوتی امام احمد بن حنبل تشریف لاتے اور فرماتے انبیاء کرام علیہم السلام بھی بیٹیوں کے باپ تھے
بس امام کی اس بات سے میرے سارے غم مٹ جاتے تھے
اھل عرب کے ہاں مقولہ مشہور ہے

لا يزالُ الرَّجل عقيمًا من الذّرارِي
حتىٰ يُوهب البنَات وإنْ كانَ لهُ مِائة منَ الأبنَاءِ
آدمی اولاد کے لحاظ سے ہمیشہ بانجھ رہتا ہے جب تک اسے بیٹیاں عطاء نہ کی جائیں اگرچہ اس کے سو بیٹے ہوں!
یعنی بیٹوں کے ہونے کے باجود انسان بانجھ ہوتا ہے اور جب بیٹی ہوتی ہے تو صحیح معنی میں صاحب اولاد کہلاتا ہے
حدیث پاک میں بیٹیوں کے بارے فرمایا
لَا تَكْرَهُوا الْبَنَاتِ فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ
بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو کیونکہ بیٹیاں محبت کرنے والی اور بلند رتبے والیاں ہوتی ہیں
بس اسی نکتے کے پیش نظر کہ محبت کرنے والیاں اور بلند مقام والیاں اگر یہ بندے کی اولاد نہ ہو تو بندہ بانجھ ہی ہے
ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بیٹیوں سے زیادہ محبت کرنا بھی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top