سیدی فاروق اعظم کی انوکھی دوا

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 34

الاصابہ,شرح مؤطا امام مالک زرقانی اور ابن عساکر وغیرہ میں ہے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر سے ایک شخص صَبِی٘غ نام کا ظاہر ہوا اور وہ لوگوں کو قرآن کریم کی آیات متشابہات کے بارے وسوسوں میں ڈالتا تھا
اور یہ بھی کہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب واپس تشریف لے آئیں گے جیسے عیسی علیہ السلام واپس آئیں گے
عمر فاروق نے اسے مصر سے مدینہ بلوایا اور پوچھو تم کون ہو کہنے لگا میں اللہ کا بندہ صبیغ ہوں
عمر فاروق اعظم نے فرمایا
اور میں اللہ کا بندہ عمر ہوں
اور پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگائے
پھر حکم دیا اس کا علاج کرو
جب وہ کوڑوں کے زخم سے درست ہو گیا
پھر اسے کوڑے لگائے پھر حکم دیا علاج کرو
جب درست ہوگیا پھر کوڑے لگائے اور علاج کیا
جب چوتھی بار کوڑے لگانے لگے تو وہ چیخ اٹھا °امیر المومنین مجھے چھوڑ دیں یا قتل کر دیں°
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے کوفہ کی طرف جلا وطن کر دیا اور حکم دیا کہ اس کے پاس کوئی اٹھے بیٹھے نہیں اور نہ اسے بیت المال سے کچھ دیا جائے
ایک روایت میں ہے کہ اس کے سر پر مارا کہ خون آگیا تو وہ کہنے لگا •امیر المومنین جو کچھ میرے دماغ میں وسوسے تھے سب نکل گئے ہیں•
کوفہ جا کر اس نے اسلامی عقائد کے مطابق اچھی زندگی گزاری
اس کی زندگی کے آخری حصے میں معتزلہ کا ظہور ہوا تو کسی نے اسے کہا ایک گروہ ظاہر ہوا ہے جو وہی بات کرتا ہے جو تم کرتے تھے جاؤ ان کے ساتھ مل جاؤ
وہ کہنے لگا
° خدا کی قسم میں ہرگز ان کے ساتھ نہیں ملوں گا کیونکہ مجھے ایک نیک آدمی نے سیدھا کر دیا ہے °
فاروقی دوا کا اثر آخری عمر تک رہا
دینی معاملات میں شک و شبہ پیدا کرنے والے کو روکنا حکومتِ اسلامیہ کا کام ہوتا ھے
جس مسجد و منبر و مدرسہ سے عقائد اسلامیہ کے بارے شکوک پیدا کیئے جائیں یا امت میں افتراق و تفریق کی بات ہو اس خطیب پر پابندی لگانا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہاں الٹا ہی کام ہے
حکومت کے خلاف بولنے پر پابندیاں لگتی ہیں دین کے خلاف بولنے پر مدد فراہم کی جاتی ہے
جو وعظ و نصیحت کا اھل نہیں جو خطابت و تقریر کی اھلیت نہیں رکھتا اسے برسر منبر بٹھا کر بیان کروانا ہزاروں مسلمانوں کے عقائد خطرے میں ڈالنے والی بات ہے
آج کل طارق مسعود , مرزا جہلمی, غامدی جیسے حضرات صبیغ جیسے علاج کے حقدار ہیں
ان کو بھی فاروقی دوا دن میں تین بار دی جائے تو شفاء پائیں گے!
اور ان کے سننے والے ذہنی مریض ہیں جو نفسیاتی ڈاکٹر کے محتاج ہیں
علماء و صوفیاء کی صحبت اختیار کریں عافیت میں رہیں گے
خود کو اور اپنے بچوں کو مسخروں سے دور رکھیں ورنہ دین کی تعلیم تو حاصل نہیں ہوگی شکوک شبہات کی وجہ سے ایمان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top