تصوف_وصوفیاء 27
فرشتے انسانی صورت میں کیا کرتے ہیں
تھذیب الآثار میں امام طبری نے فرمایا کہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں میں نے دو بار جبریل امین کو دیکھا اور دو بار حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے میرے لیئے حکمت کی دعاء فرمائی
مسند احمد میں ہے جب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو عرض کیا کہ میں نے آپ کے ساتھ کسی شخص کو دیکھا
تو آپ نے فرمایا کیا تم نے دیکھا؟
عرض کی جی دیکھا فرمایا عنقریب تمہاری آنکھوں کی بینائی چلی جائے گی
اور پھر ایسا ہی ہوا عبد اللہ بن عباس کی اخری عمر میں انکھوں کی روشنی چلی گئی تھی!
جبریل امین کو بشری صورت میں دیکھنے میں صرف ابن عباس تنہاء نہیں ہیں
بلکہ طبرانی میں ھے حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بھی جبریل امین کو دو بار دیکھا ھے
اور مسند احمد میں ہے سیدہ عائشہ صدیقہ نے حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں جبریل امین کو دیکھا
حضرت محمد بن سلمہ نے جبریل امین کو آدمی کی صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پاس دیکھا
حضرت حمزہ نے جبریل امین کو دیکھا
مگر ان صحابہ کرام کی آنکھوں کی بینائی کم نہیں ہوئی
تو سوال ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بینائی کو چلی گئی؟
اول امکان
تو یہ کہ ابن عباس نے ایسی خاص حالت میں دیکھا ہوگا جو عقل سے وراء ہو مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی وجہ سے برداشت ہوگیا!
اور اس کا اثر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ظاہر ہوا
دوم امکان
ہے ابن عباس نے اس وقت دیکھا ہو جب جبریل انسانی شکل میں وحی کا القاء کر رہے تھے تو نزول وحی کی تجلی کا بوجھ سوا نبی کے کوئی نہیں اٹھا سکتا اس لیئے ابن عباس کی بصارت چلی گئی تھی
مذکورہ صحابہ کرام کے علاوہ عمران بھی حصین,حذیفہ بن یمان,اسید بن حضیر رضی اللہ عنھم نے جبریل امین کے سوا ملائکہ دیکھے ہیں
عام فرشتے انسانی شکل کی انسانوں کی آزمائش کے لیئے اترتے ہیں
کبھی مسافر کے روپ میں کبھی مریض کے رنگ میں کبھی فقیر کی شکل میں نازل ہوتے ہیں
علامہ شعراوی نے فرمایا
اذا رایت فقیراً فی بلاد المسلمین فاعلم ان ھناک غنیاً سرق مالہ
جب تم مسلمانوں کے شہروں میں فقیر دیکھو تو جان لو کہ ان فقراء کا حق مالدار کھا گئے ہیں
فقیر و مسکین دیکھ کر جس کا دل نرم نہ پڑے وہ تو پتھر کا دل ہے
کچھ اھلِ علم ایسے ہوتے ہیں
جہاں مال خرچ کرنا پڑ جائے تو احکامِ شرع یاد آجاتے ہیں مثلا کسی فقیر کو دیکھیں تو یہ مسئلہ یاد رہتا ہے کہ پیشہ ور بھکاری کو دینا جائز نہیں ہے
امام عارف باللہ عبد الوھاب شعرانی لطائف المنن میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ میں کسی بھی سائل کو واپس نہیں لوٹاتا,
اگرچہ وہ صحت مند و کمانے پر قادر ہو اگرچہ ظاہری شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ ایسوں کو نہ دیا جائے
وجہ اسکی یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے فرشتے انسانی صورتوں میں آکر بندے کا امتحان لیتے ہیں
بار بار مانگتے اور ضد کرتے ہیں، اگر بندہ حلم و کرم دکھائے تو وہ کامیاب شمار ہوتا ھے!
جیساکہ روایات میں آیا کہ دورانِ طوافِ کعبہ فرشتے انسانی شکل میں آکر بطور امتحان دھکم پیل کرتے ہیں لہذا وہاں کسی کو سختی سے نہ دیکھو نہ کچھ کہو
مزید فرمایا
ایک بار سائل نے سوال کیا میں نے اسے عطاء کیا پھر اپنے خادم کو کہا دیکھو یہ کیا کرتا اور کہاں جاتا ھے
خادم نے واپس آکر بتایا کہ اس سائل نے شہر بھر سے بھیک مانگی اور پھر ان مانگی ہوئی اشیاء کے کچھ حصے کیئے اور پھر مختلف محلوں بستیوں میں جا کر بیواؤں یتیموں کے گھروں میں تقسیم کر دیئے
میں نے کہا اللہ کا شکر ہے میرا مال ٹھکانے لگا
فرمایا,
ایک بار پھر خادم کو کو کسی سائل کے پیچھے بھیجا تو اس نے آکر بتایا کہ اس نے بھیک مانگی اشیاء جمع کیں
اور پہاڑ پر چلا گیا وہاں صوفیاء اور فقراء عبادات و وظائف میں مشغول تھے اس نے تمام اشیاء ان کے سامنے رکھ دیں اور خود عبادت میں مصروف ہوگیا,
ایسا بارہا ہوتا ھے کہ ھم جس کو سائل سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ گڈری کا لعل ہوتا ھے
یا تو انسانی صورت میں فرشتہ ہوتا ھے یا اولیاء کا نمائندہ ہوتا ھے
وہ خدمتِ خلق کر رہا ہوتا اور صاحبِ مقام ہوتا ھے,
اگر آپ ظاہری شریعت پر عمل کریں تو بھی احسن انداز سے سائل کو واپس بھیج دیں ورنہ باطنی شریعت {صوفیاء کے طریقے} پر عمل کریں ممکن ہے آپکو ان سا بنا دیا جائے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
