ذاتی_مطالعہ 59
امام اصمعی کہتے ہیں
الحیة لا تموت انما سميت حية لانها حية أبدا لا تموت حتى يشدق رأسها
ناگن مرتی نہیں ہے
ناگن کو عربی میں حیہ (زندہ رہنے والی کہا جاتا ہے) کیونکہ یہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے اس وقت تک نہیں مرتی جب تک اس کا سر نہ کچل دیا جائے
(النوادر والنتف لابی الشیخ)
“لطیفہ”
عورت کو بھی حیة کہتے ہیں
سائنسی لحاظ سے بھی سانپ سر کاٹ دیئے جانے کے بعد کچھ گھنٹے زندہ رہتا ہے اور کاٹ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے
پچھلے دنوں چائنہ کے ایک طباخ کو سانپ کے سر نے ڈس لیا جس سے وہ مر گیا
قدیم عرب کہتے تھے سانپ کا سر کاٹ دیا جائے تو بھی دو ماہ تک وہ سانپ کا سر زندہ رہ سکتا ہے
شاید یہ ہر سانپ میں قوت نہیں ہے مخصوص سانپ کی خاصیت ہے
اب یہاں ایک سوال چھوڑ رہا ہوں
محض سانپ کا سر دیکھ کر اس بارے پڑھ سن کر خوف طاری ہو جاتا ہے تو قبر کے سانپ و بچھو کے بارے کیوں نہیں سوچا جاتا؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
