سائنس , جادو یا شیطان

اسلامی_سائنس 22

خلیفہ ہارون الرشید
(متوفی 809 عیسوی) نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی بھیجی
جو خالص پیتل سے بنی تھی
چار میٹر اونچی اور پانی کے زور سے چلتی تھی
گھنٹہ پورا ہونے پہ گھڑی کے اندر سے گیند نکلتی تھی دو گھنٹے ہونے پہ دو گیندیں تین گھنٹے ہونے پہ تین گیندیں نکلتی تھیں
گیند نکلنے کے وقت خوبصورت آواز پیدا ہوتی تھی
اُسی وقت گھڑی کے بارہ دروازہ میں سے ایک دروازہ کھل جاتا تھا
اس میں سے گھڑ سوار نکلتے تھے جو گھڑی کے دائرے کا چکر لگا کر واپس اُسی جگہ داخل ہو جاتے تھے
بارہ بجے بارہ دروازہ کھلتے بارہ گھڑ سوار نکل کر چکر لگا کر واپس چلے جاتے تھے
فرانس کا بادشاہ اسکو دیکھ کر دہشت زدہ ہوگیا
اس کے پادریوں نے کہا کہ اس گھڑی کے اندر شیطان ہے جو اسکو اندر سے چلا رہا ھے
وہ سب ملکر رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ شاید شیطان سوگیا ہوگا

انہوں نے گھڑی کھول ڈالی
اندر سے سوائے گھڑی کے آلات کے کچھ نہ ملا
بادشاہ بہت پریشان ہوگیا کہ ایک نایاب شے خراب کر دی
اس نے ملک کے تمام ماہر و تجربہ کار جمع کیئے مگر کوئی درست نہ کر سکا
کسی نے مشورہ دیا کہ خلیفہ ہارون الرشید کو پیغام بھیجیں وہ کسی مسلمان کاریگر کو بھیجیں جو اس گھڑی کو درست کر دے
بادشاہ نے کہا
مجھے شرم آرہی ھے کہ خلیفہ جان نہ لے کہ ھم فرانس کے نام پہ دھبہ ہیں کہ ایک گھڑی بھی مرمت نہ کر سکے

ایسی تکنیکی گھڑیاں بدیع الزماں الجزری کی ایجادات بھی تھیں
وہ ھمارا عروج تھا
جب یورپ مسلمانوں کی سائنس کو جادو و شیطان سمجھتے تھے

مسلمان جاگ ذرا
اب تیرے دور کا آغاز ہوا ہے
⁦✍️⁩ سید مہتاب عالم

Scroll to Top