عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 28
قالت: ومن إستدعاك هُنا
قُلت: رائحة روحك
وہ بولی یہاں تجھے یہاں کس نے بلایا
میں نے کہا
تیری روح کی خوشبو نے
❗ جلال الدين الرومي ❗
محبوب کی بو ہزار پردوں میں لاکھ تہوں میں بے شمار دروازوں میں ظاہر ہو جاتی ہے
اور جب معاملہ روح کی خوشبو کا ہو تو جسم زندہ ہو یا موت سے فناء ہو جائے کوئئ معنی نہیں رکھتا
جو راہِ حق کا مرشد ہو وہ آپ کی بو سونگھ کر آپ کو اپنی جناب میں بلا لیتا ہے اور پھر منازل طے کرواتا ہے
مگر جس کی اپنی روح پہلے سے صاف ہو وہ خود ہی اپنی روح کے ہادی کو تلاش کر لیتا ہے اور اس کے آستانے پہ جا کے سر جھکا دیتا ہے
✍️ سیدمہتاب_عالم#
