دِلوں کو جوڑنا سیکھیں دل توڑنے کا تو رواج ہے

اسلامی_طرزِ_تربیت 241

ایک دیہاتی مامون الرشید کے دربار میں حاضر ہوا جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے اور حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی
دیہاتی کہنے لگا
امیر المومنین میری کھیتی تباہ ہو گئی جانوروں کے تھن سوکھ گئے اولاد مر گئی اب میرا الله کے سوا اور آپ کے سوا کوئی نہیں ہے
دیہاتی کی ظاہری حالت دیکھ کر درباری تمسخر کی نگاہ سے دیکھنے اور ہنسنے لگے
دیہاتی شرمندہ ہوگیا
مامون الرشید کو غصہ آگیا اور کہنے لگا
تم ایسے آدمی پر ہنستے ہو دنیا نے جس کا دم توڑ دیا تو وہ تمہارے پاس آیا ہے ؟

مامون الرشید نے اس دیہاتی کی کرسی اپنی کرسی کے ساتھ لگوائی اسے عزت و شان سے بٹھایا
اور کہا
اے آدمی یہ بادشاہوں کی مجلس ہے اس پہ بیٹھو
تم مجھ سے کم نہیں ہو الله ہی ہے جس نے مجھے خلیفہ بنایا اور تمہیں دیہاتی بنایا
قیامت کے دن ہو سکتا ہے تم مجھ سے بلند مقام پر فائز ہو
پھر دیہاتی کے لیئے ایک ہزار دینار ایک اونٹ اور شاہی لباس عطاء کیا
جب دیہاتی باہر نکلا تو کہنے لگا
خدا کی قسم میں مال کی وجہ سے خوش نہیں ہوا بلکہ جہاں لوگوں نے میرا دل توڑا امیر المومنین نے وہاں میرا دل جوڑا میں اس بات سے خوش ہوا ہوں

مال و دولت خرچ کرنے سے کئی زیادہ بہتر آنے والے لحاظ کرنا ہے
دل جوڑنا اعلی عبادت ہے

صرف مالی معاونت سے دل جوڑنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ایک کلمہ بلکہ ایک مسکراہٹ بھی وہ کام کر جاتی ہے جو لاکھوں روپے نہیں کر سکتے
ایک عورت پانی سے بھرا گھڑا لے جا رہی تھی
گھڑا گر کے ٹوٹ گیا
امام مالک پڑھا رہے تھے وہاں موجود بچے ہنسنے لگے
امام مالک اٹھے اور گھڑے کی ٹھیکریاں جمع کیں اور اپنی آستین سے سونے کے سکے نکال کر اسے دیئے اور فرمایا
ماں جی دل چھوٹا نہ کریں یہ گھڑا اس لیئے ٹوٹا کہ آپ کا دل جوڑا جائے
وہ عورت کہنے لگی
خدا کی قسم کسی نے میرا دل ایسے نہیں جوڑا جیسے آپ نے جوڑا ہے
ٹوٹے دل پیسوں سے نہیں ہمدردی کے الفاظ سے جڑتے ہیں

لوگوں کے دِلوں کو جوڑنا سیکھیں دل توڑنے کا تو رواج ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top