دل کا لحاظ کریں تو دِلڑی کا لحاظ بھی کریں

الحب_و_العشق 12

روضة میں ہے
ایک شخص کے پاس لونڈی تھی جس کو وہ ہر میلے میں فروخت کے لیئے پیش کرتا
اس لونڈی کی بڑھ چڑھ کر بولی لگائی جاتی
مگر آقا اس کو فروخت نہ کرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ بولی لگائی جائے تاکہ اس کو کثیر فائدہ ہو

اسی دوران ایک غریب آدمی کا دل اس لونڈی پر آگیا
اور یوں آیا کہ اس بے چارے کے دن رات کا سکون و چین برباد ہوگیا اور شدتِ محبت کی وجہ پاگل ہونے کے قریب ہوگیا

جب اس غریب آدمی کی شدید محبت کی خبر مالک کو ہوئی تو اس نے وہ لونڈی اس غریب کو بطور تحفہ دے دی

لوگوں نے اس کو بہت ملامت کی کہ تم زیادہ سے زیادہ مال کمانے کے چکر میں تھے اور اب لونڈی مفت دے بیٹھے ہو

اس نے جواب دیا
میں نے اللہ رب العزت کا فرمان سنا
ومن احیاھا فکانما احیاالناس جمیعا
جس نے ایک جان کو زندہ کیا گویا اس سے تمام انسانوں کو زندہ کر دیا
تو کیا میں تمام انسانوں کو زندہ نہ کرتا
دو محبت کرنے والوں کو ملانا کارِ خیر بلکہ عظیم کام اور کثیر اجر و ثواب والا کام ہے
لہذا ایسوں کی راہ کے کانٹے صاف نہیں کرنے تو کانٹے بچھائیں بھی نہیں

اس لونڈی کے مالک نے قرآن کریم سے اچھوتا استدلال کیا کہ عاشق کو محبوب نہ ملے تو وہ بیکار ہو جاتا ہے
کھانے پینے , کمانے سے مفلوج ہو جاتا ہے
اور بیکار کو کارِ خیر میں لگا دینا ثواب ہے
والدین کو چاہیئے کہ جہاں اپنے شہزادے کی مرضی کا بڑھ چڑھ کر پوچھتے ہیں وہاں اپنی شہزادی کے نازک دل کا لحاظ بھی کیا کریں
بچوں کا دل جبکہ بچیوں کی دِلڑی ہوتی ہے وہ نہ توڑا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top