طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 24
امام اجل فقیہ بے بدل امام طحاوی نے مشکل الآثار میں سیدی جابر بن سمرہ سے نقل کیا کہ
میں نے سو سے زیادہ مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے صحابہ کرام کی مجلس میں شرکت کی
تو حضور کے صحابہ کرام حضور جانِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شعر گنگناتے تھے , زمانہ جاہلیت کے قصے کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے تھے بسا اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن کر مسکرایا کرتے تھے
امام شعبی کے بارے آتا ہے
وہ حدیث پاک پڑھاتے ہوئے روک دیتے
فرماتے لاؤ کچھ شعر ہو جائیں
پھر کچھ دیر شعر و شاعری چلتی پھر فرماتے کہ دل بھی تھک جاتے ہیں جیسے بدن تھک جاتے ہیں تو ان دلوں کو نوادر اشیاء سے تازگی بخشا کرو
••• محض دل کی تازگی کو شعر کہنا سننا قصے سننا صحابہ کرام اور تابعین و فقہاء و محدثین کا طریقِ کار ہے •••
دل و دماغ میں تنگی نہ رکھیں نہ خشکی آنے دیں بلکہ عجائب و غرائب معلومات و اشعار سے تازگی بخشتے رہا کریں
اور یہاں سے وہ تنگ ذہن , خشک دماغ , بے مروت لوگ بھی سبق لیں جو علماء کے اشعار پڑھنے یا مزاح کرنے پر معترض ہوتے ہیں
اشعار گنگنانا جائز ہے جبکہ فحش گوئی اور کسی خاص عورت کے محاسن نہ ذکر نہ ہو
علماء کرام کے تجربات سے فائدہ لیں اعتراض کر کے نقصان نہ اٹھائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
