طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 99
°°° فہم و فراست بڑھانے کے طریقے °°°
ابو على مسكويه سے سوال ہوا
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان کسی کو دشمن بنانا چاہے تو ایک لمحے میں بنا لیتا ہے
اور اگر کسی کو دوست بنانا چاہے تو طویل زمانہ, خوب چھان بین, اطاعت و فرمانبرداری دیکھی جاتی ہے؟
جواب دیا
آپ کے سوال کا جواب امام اصعمی کی اس حکایت میں یے
کسی نے ان سے اس شعر
الالمعی الذی یظن بک الظن کان قد رای و قد سمعا
الالمعی وہ جو تیرے بارے کوئی بھی گمان کرے تو گویا اس نے دیکھا اور سنا ہو
میں نے ان سے الالمعی کا معنی پوچھا تو
امام اصمعی نے فرمایا
الذی یظن بک الظن کان قد رای و قد سمعا
الالمعی کا معنی جس کی فکر میں حدت سوچ میں تیزی ہو
ایسی تیزی کہ اس کا گمان بھی یوں ہو گویا اس نے دیکھ کر بتایا ہو جبکہ اس نے صرف سنا ہو
ابو علی مسکویہ نے کہا میں بھی یہی کہتا ہوں
انسان جلد دشمن بنانے پر قادر ہے اور جلد دوست بنانے پر قادر نہیں ہے
کیونکہ دشمنی شگاف بنانا اور دوستی شگاف بھرنا ہے
دشمنی گرانا اور دوستی تعمیر کرنا ہے
❗الھوامل و الشوامل ❗
یعنی گرانا آسان ہوتا ہے
لمحوں میں بلند و بالا عمارات گرا دی جاتی ہیں مگر تعمیر کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے کہ سالوں لگ جاتے ہیں
تو دوستی عمارت بنانا اور دشمنی عمارت گرانا ہے
آپ خود دیکھ لیں آسان کیا ہے؟
ابو علی مسکویہ کے امام اصعمی کے بیان کردہ شعر سے استدلال کا نچوڑ یہ ہے کہ
ہر انسان دوستی اور دشمنی اختیار کرنے میں الالمعی ہے
ہر انسان کی حس نہایت تیز اور فکر میں حدت ہے
اسی وجہ سے دشمنی جلد اور دوستی دیر سے کرتا ہے
سیدی عمر فاروق اعظم کا فرمان
من لم ينتفع بظنه لم ينتفع بيقينه
جو اپنے ظن سے نفع نہیں اٹھا سکا وہ اپنے یقین سے بھی نفع نہیں اٹھا سکے گا
❗فصل المقال فی شرح کتاب الامثال ❗
فراست کا ایک مرحلہ ہے کہ گمان درست ہونا شروع ہو جاتے ہیں
جبکہ دوستی و دشمنی اختیار کرنے میں ہر کس و ناکس ہر عالم و جاہل ہر عاقل و احمق کے پاس فراست کی یہ منزل ضرور ہوتی ہے
ہمارے ہاں دو لفظ ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں فہم و فراست تو اگر آپ نے خود میں فہم و فراست بڑھانی ہے تو درج ذیل کام کریں
(1) کہنہ مشق (کم از کم بیس سالہ تجربہ کار) اساتذہ کی صحبت اختیار کریں
(2) کتبِ امثال پڑھیں
(3) امام شاطبی کے مقاصد شریعت اور امام عز الدین عبد السلام کی قواعد کبری پڑھیں اور ان سے ملتی جلتی کتب پڑھیں
(4) کتاب الحیوان للدمیری پڑھیں
(5) نواجوان علماء کی صحبت کم رکھیں اور ہم درس طلباء سے تو بالکل دور رہیں
(6) سیر اعلام النبلاء , طبقات الشافعیہ, طبقات حنفیہ پڑھیں
(7) خاندان و محلہ کے بزرگوں کے پاس کثرت سے بیٹھیں ان کی باتیں سنیں ان کے کام کریں ان سے زندگی بھر کے مشاہدات و تجربات اگلوا لیں
(8) قصص و عبر پر مشتمل کسی بھی کتاب کا روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ کریں
(9) کتاب العظمہ لابی الشیخ اور البدور السافرہ للسیوطی کا مطالعہ کریں
(10) زمین پر بیٹھا کریں اور زمین پر سویا کریں
زمین پر سونے کی بڑی تاثیر ہے
دوست و دشمن بنانے کی فراست تو سب میں ہوتی ہے
فراست میں اضافہ کرنے کے لئے مذکورہ کام کریں
یہ نکات غمِ دنیا سے نجات بھی ہوں گے اور جھلسی روح کے لیئے نفحات بھی ہوں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
