طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 138
ایک بزرگ کا فرمان ہے
لو كنَّا نطلب العلم لنبلغ غايته كنَّا قد بدأنا العلم بالنَّقيصة ولكنَّا نطلبه لننقص في كلِّ يومٍ من الجهل ونزداد في كلِّ يومٍ من العلم
اگر ہم علم اس لیئے طلب کرتے کہ اس کی انتہاء کو پہنچ جائیں تو ہم علم کی ابتداء ہی ایک ناقص سوچ سے کرتے لیکن ہم نے علم اس لیئے حاصل کرنا شروع کیا کہ ہر روز ہماری جہالت کم ہوتی جائے تو یوں ہر دن ہمارا علم بڑھتا گیا
❗ ادب الدنیا و الدین للماوردی❗
حصولِ علم کا مقصد علم کی انتہاؤں کو چھونا نہیں ہونا چاہئے نہ کوئی علم کی انتہاؤں کو چھو سکتا ہے
خود سے جہالت دور کرنا ہی علم ہے
امام اھلِ سنت علم کی تعریف یوں ارشاد فرماتے ہیں
علم وہ نور ہے کہ جو شے اس کے دائرے میں آگئی منکشف (یعنی ظاہر) ہوگئی
اگر کوئی علم کی انتہاؤں کو چاہے گا جلد مایوس ہو جائے گا اور جو خود سے جہالت دور کرے گا وہ روز علم کا نیا باب سیکھے گا
ہم ایک جہان کی کروڑوں چیزوں سے جاہل ہیں جب کسی شے کو جان لیتے ہیں تو ایک ذرہ جان پاتے ہیں جبکہ اس جہان کے سوا ہزاروں جہان اور ہیں
یہی وجہ ہے کہ علماء خود کو عالم نہیں جانتے
روایت میں ہے
من قال انا عالم فھو جاھل
جس نے کہا میں عالم ہوں وہ جاہل ہے
جس کے پاس پانی کا ایک پیالہ ہو وہ سمندر کے کنارے پہنچ کر پانی کے پیالے پر فخر کر سکتا ہے ؟
صاحبِ علم کی پہلی پہچان یہی ہے کہ خود کو سمندر کا قطرہ بھی نہیں سمجھتا
ہر شے کی آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت خود کو علم والا جاننا ہے
قرآن کریم میں ہے
فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ
ہر علم والے پر ایک علم والا ہے
امام شعبی فرماتے ہیں
لا أَدري نِصفُ العلمِ
میں نہیں جانتا کہنا نصف علم ہے
کیونکہ جو جانتا ہے کہ علم میری سوچ سے کئی زیادہ ہے تو وہ کچھ تو جانتا ہے تبھی لا ادری کہ رہا ہے
نئے نئے فارغ التحصیل اپنے پڑھے ہوئے کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں جو کہ سراسر جہالت ہے
اگر کوئی علم والا کسی بات کو بیان کرتا ہے جب تک اس سے بڑے علم والے کا رد موجود نہ ہو آپ انکار نہ کریں
کیونکہ آپ کی رسائی ایک دو کتابوں تک ہو سکتی ہے اور عین ممکن ہے اسکی رسائی دس کتابوں تک ہو
آپ کے دائرہَ علم میں کسی بات کا نہ ہونا اس شے کے نہ ہونے کو لازم نہیں ہوتا
الغرض خود سے جہالت دور کرنے کو علم حاصل کریں علم کی انتہاؤں کو چھونے کے لیئے نہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
