تاریخِ_اسلامی 90
حکمرانوں کو سلاطینِ اسلام کی تاریخ پڑھائی جائے
جب ملکِ شام کے شہر حلب پر عماد الدین زنگی حاکم تھا صلیبیوں نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو عماد الدین زنگی نے سلجوقی سلطان سے مدد طلب کرنا چاہی تو اس کے مشیروں نے کہا سلجوقی سلطان صلیبیوں کو بھگا کر آپ کو بھی تخت سے اتار دے گا
عماد الدین زنگی نے خوبصورت جواب دیا
المسلمون أولى بها من الكفـار
مسلمان کفار سے زیادہ حقدار ہیں
اسی طرح اشبیلیہ کے حاکم معتمد بن عباد پر الفانسو نے حملہ کا ارادہ کیا تو معتمد نے یوسف بن تاشفین سے مدد چاہی اس کے مشیروں نے کہا کہ یوسف بن تاشفین آپ کی سلطنت پر قابض ہو جائے گا
تو معتمد نے بڑی کمال کی بات کہی
لأنْ أرعى الإبل عند ابن تاشفين خير من أن أرعى الخنازير عند ألفونسو
یوسف بن تاشفین کے پاس میرا اونٹ چرانا الفانسو کے پاس سور چرانے سے بہتر ہے
جب حکمران حکومت و سلطنت کو الٰہی عطیہ سمجھیں اور امانت جانیں تو ہاری ہوئی سلطنت کفار کے ہاتھوں میں دینے کی بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں میں دینا پسند کرتے ہیں
بہترین حاکم وہی ہے جو آپسی م
جنگوں میں مرنا قید ہونا پسند کرے مگر کفار سے مدد مانگنا جائز نہ سمجھے
جفاء و دغا یہی تو ہے کہ اپنی سلطنت بچانے کو لاکھوں مسلمانوں کا دین و ایمان بیچ دیا جائے
مسلمان کا مسلمان کے خلاف کفار سے مدد مانگنا کفر ہے
حکمرانوں کو دینی علوم پر مہارت نہ بھی ہو تو کم از کم تاریخی اسلامی سے اچھی خاصی واقفیت ہونی چاہیے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ملک و ملت سے غدار حکمران کا کیا انجام ہوا اور خیر خواہِ اسلام کا مقام و مرتبہ کیا ہے ؟
ہر وزیر اعظم و صدر کو غزنوی و ایوبی و یوسف بن تاشفین و زنگی و سلیمان قانونی کے بارے پڑھنا چاہیئے
ان کی سیرت کے مطالعہ سے غیرتِ دینی و حمیتِ اسلامی پیدا ہوگی
سیدمہتاب_عالم# ✍️
