حوالہ مانگنے والے ذہنی مریضوں کا حل

المزاح_و_الظرافت 37

امام اعمش تیز مزاج شخص تھے
ان سے سوال ہوا آپ نے تیز مزاجی کہاں سے لی ہے
فرمانے لگے
یحییٰ بن وثاب سے تیز مزاجی لی ہے
ایک شخص نے یحییٰ بن وثاب سے حدیث کی سند طلب کی وہ اٹھے اور اس کا گریبان پکڑ کے دیوار کے ساتھ لگا دیا اور اس کا گلہ دبانے لگے اور کہنے لگے

هذا سنده
یہ اس کی سند ہے

سند کا لغوی معنی ٹیک لگانا ہے اور دیوار کو بھی سند کہتے ہیں تو یحییٰ بن وثاب نے اس حوالہ مانگنے والے کو دیوار سے ٹِکا کر گلہ دبا دیا اور کہا یہ سند ہے

❗جمع الجواھر فی الملح والنوادر للقیروانی ❗

یقین کریں حوالہ مانگنا بڑی بیہودہ بیماری ہے

میں نے ایک تحریر لکھی
ایک صاحب نے حوالہ مانگا
میں نے کتاب بتا دی
جلد کا پوچھا
جلد بتا دی
صفحہ پوچھا
وہ بھی بتا دیا
آگے سے کہنے لگا سکرین شارٹ دے دیں
اس وقت جو میری غصے و جلال والی کیفیت تھی وہ میں ہی جانتا ہوں

تب سمجھ آیا کہ حضرت یحییٰ بن وثاب نے ایسوں کے لیئے ہی وہ طریقہ اختیار کیا تھا
آپ مردِ میدان بنیں یا محض تماشائی
اگر مردِ میدان ہیں تو حوالہ نہ طلب کریں خود تلاش کریں اگر تماشائی ہیں تو صرف لطف اٹھائیں حوالہ طلب نہ کریں
تیسری جنس نہ بنیں وہ جو بیچ کی ہوتی ہے
آپ سے کوئی حوالہ مانگے تو اسے حوالات (جیل) کا منہ دکھا دیں کہ یہ حوالہ ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top