آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 24
سیدی عبادہ بن صامت فرماتے ہیں
كنا نبور أولادنا بحب علي بن أبي طالب فإذا رأينا أحدهم لا يحب علي بن أبي طالب علمنا أنه ليس منّا وأنه لغير رشده
ھم اپنی اولاد کا کے حلالی ہونے کا پتا مولا علی کی محبت سے چلایا کرتے تھے
تو جو مولا علی سے محبت نہ کرتا ھم جان لیتے کہ وہ ناجائز اولاد ھے
ابن مردویہ انس بن مالک سے
ما كنّا نعرف الرجل لغير أبيه إلّا ببغض علي بن أبي طالب
ہم کسی آدمی کے حرامی ہونے کو مولا علی کے بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے
ابن عساکر اور ابن جزری اور علامہ زبیدی حضرت جابر بن عبد اللہ سے یہی روایت کرتے ہیں
ہم اپنی اولاد کا امتحان علی کی محبت سے لیتے تھے
ایک روایت میں ھے کہ
صحابہ اپنے بچوں کو راستے میں لیکر کھڑے ہوتے جب سے علی گزرتے تو بچے سے پوچھتے کہ تم ان سے محبت کرتے ہو ؟؟؟
اگر بچہ کہتا جی ہاں تب تو ٹھیک اگر بچہ کہتا کہ نہیں تو صحابہ بچے کو اسکی ماں کے پاس لے جاتے اور کہتے یہ میرا نہیں کسی اور کا بچہ نے تم نے خیانت کی ھے لہذا تمہیں طلاق ھے
تین صحابہ سے مروی احادیث کا خلاصہ
اس امت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی ایسی ہستی ہے کہ جس کی محبت کو کسی انسان کے حلالی و حرامی ہونے کا معیار بنایا جائے تو صرف و صرف مولا علی ہیں
اگر آپ کو ان احادیث کے پڑھنے کے بعد تنگی محسوس ہو رہی ہے تو ولید بن مغیرہ کی طرح اپنی ماں کے گلے پہ تلوار رکھو وہ بتا دے گی کہ کس کے گناہ کی پیدائش ہو
خرابی تبھی آتی ہے جب فضائل و مناقب کو خلط ملط کر دیا جائے
ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے
تقابل کے بغیر ہر صحابی کی شان و منقبت بیان کرنا سنیت ہے
محبتِ علی میں غلو سے کام نہ لینا سنیت ہے
آپ اکابر علماء و اولیاء کرام کی کتب پڑھیں کسی جگہ انہوں نے تقابل نہیں کیا
جہاں جس ہستی کا ذکر آیا اس کی شان بیان فرما دی
الحمد للہ ہم سنی مولا علی سے بلا مشروط محبت کرتے ہیں
صدیق و عمر و عثمان ان پر ہماری جان قربان ان سے بلا مشروط محبت کرتے ہیں
نہ ناصبی ہیں کہ حبِ شیخین میں غلو کریں اور مولا علی کو بھول جائیں نہ رافضی ہیں کہ علی علی کرتے پھریں اور علی کے محبوبوں صدیق و عمر و عثمان سے محبت نہ کریں
ہم سنی ہیں
اھلِ سنت کا ہے بیڑہ پار اصحابِ رسول
نجم ہیں , اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
سیدمہتاب_عالم
