عشقِ_سیدِ_عالم 37
حسن رضا خان عرض کرتے ہیں
نکالا کب کسی کو بزمِ فیضِ عام سے تم نے
نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے
اے بعد از خدا بزرگ آپ کی ذات کسی کو اپنی بزم عالیشان سے کب نکالتی ہے ؟
بادشاہوں کو بادشاہت بھیک میں آپ سے ملتی ہے
علماء کو علم
فقہاء کو فقہ
فلاسفہ کو فلسفہ
مناطقہ کو منطق
اھل علم کو علم
عقلمندوں کو عقل
اھل فضل کو فضل و کمال
سب آپ کے در سے بھیک میں ملا بلکہ اھل ایمان کو ایمان آپ کے در سے ملا ہے
اور کریم کی شان ہے کہ وہ بھیک دے کے واپس نہیں لیتا آپ تو سب سے بڑے کریم ہیں
تو نے ایمان دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
اب آپ ایمان واپس نہیں لیں گے کیونکہ آپ دے کر کچھ واپس نہیں لیتے
اے خدا کے پیارے
اے ساری خدائی کے کرتا دھرتا
اے مخلوقات کے حاجت روا
ہم بھی ٹوٹی ہوئی امید لیئے بیٹھے ہیں
حضور آپ اللہ رب العالمین کو سب سے زیادہ پیارے ہیں
سب سے زیادہ عزت والے ہیں
آپ کی بات آپ کا رب نہیں ٹالتا آپ کے ناز و ادا پر میں قربان وہ گورے گورے ہاتھ اٹھا دیں کہ جن کو خالی لوٹانے سے آپ کا رب حیاء فرماتا ہے
جن کو سُوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دئیے
صَدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم کو بھی درکار ہے
حضور آپ کی مبارک انگلی کا اشارہ چاند کو توڑ دے حضور ایک اشارہ میرے دل کی طرف بھی فرما دیں کہ ٹوٹا دل جُڑ جائے
بس آپ کا ایک اشارہ اور میری دنیا و آخرت سنور جائے
حضور
حضور
حضور
اللھم صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی له
سیدمہتاب_عالم# ✍️
