الحب_و_العشق 37
من ألِفَ الجَمال صَار مصدرًا له
جو جمال سے مانوس ہوا تو وہ جمال کا مصدر بن جاتا ہے
یعنی اس سے جمال متعلق ہو جاتا ہے
پانی میں رہنے والا آبی بن جاتا ہے
مٹی میں رہنے والا خاکی بن جاتا ہے
افلاک پر رہنے والا افلاکی بن جاتا ہے
اسی طرح جمال میں رہنے والا با جمال ہو جاتا ہے
مہ جمالوں کی صحبت میں رہنے والا حسین نہ بھی ہو تو صاف ستھرا اور بنا سنورا رہنا شروع کر دیتا ہے
اسی طرح علماء کی صحبت میں رہنے والا عالم نہ بھی ہو تو عالمانہ وقار سے متصف ہونے لگتا ہے
صحبت ظاہری شکل و صورت بھی بدلتی ہے اور باطنی تبدیلیاں بھی لاتی ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
اِنّ اللہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمالَ
اللہ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
{مسلم شریف}
اللہ رب العزت نے انسانی فطرت میں جمال پسندی رکھی ہے
جمال کیا ہے ؟
رنگوں کا حسین امتزاج اور اعضاء کا متناسب ہونا
سیاہ رنگ بھی حسن کا ایک حصہ ہے مگر تصور کریں کسی کا مکمل چہرہ سیاہ ہو تو ؟
وہ جمال نہیں کہا جائے گا
اگر آنکھیں سرمگیں اور بال سیاہ ہوں تو یہ جمال ہے
سفیدی بھی حسن و جمال کا حصہ ہے حتی کہ سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ رضی الله عنھا نے فرمایا
البیاض نصف الحسن
یعنی سفیدی آدھا حسن ہے
مگر یہی سفیدی سیاہی کی جگہ غالب آ جائے مثلاً پلکیں سفید ہو جائیں اور بھنویں سفید ہو جائیں تو جمال نہیں کہلائے گا
اسی طرح چہرے کی رنگت سونے جیسی سنہری ہونا حسن و جمال ہے مگر یہی پیلاہٹ دانتوں میں ہو تو بد صورتی بن جاتی ہے
ثابت ہوا رنگوں کا مناسب امتزاج حسن و جمال ہے
اسی طرح جسم کے اعضاء میں ہے آنکھیں بڑی ہونا جمال ہے مگر دانت بڑے بڑے ہونا جمال نہیں ہے
یہی وجہ ہے کہ عورت میں سونے جیسی پیلاہٹ سفید رنگت سے زیادہ حسن شمار ہوتی ہے
سر بڑا ہونا جمال ہے مگر کان بڑے ہونا جمال نہیں ہے
الغرض رنگت و اعضاء میں توازن کا نام حسن و جمال ہے
اور فطری طور پر ہر انسان میں خودکار نظام (آٹو میٹک سسٹم)ہوتا ہے جو اسے آگاہ کرتا ہے کہ سامنے والے کی رنگت و اعضاء میں توازن ہے کہ نہیں
اور یہ خود کار نظام ہر ایک کا مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے ایک شخص کو کوئی انسان حسن و جمال والا لگتا ہے مگر دوسرے کو وہ عام لگتا ہے
کیونکہ ان دونوں کا حسن و جمال پرکھنے والا خود کار نظام الگ الگ سطح کا ہوتا ہے
اور پھر مَردوں کے جمال کا نظام الگ ہے
کیونکہ مَردوں میں رنگت اتنا خاص معنی نہیں رکھتی بلکہ ان میں وقار , ہیبت , اور اعضاء میں تناسب و توازن معنی رکھتے ہیں
مرد کا جمال فطری اشیاء سے ہے یعنی داڑھی , مونچھیں , پگڑی وغیرہ
رعب و جلال سے مرد کے جمال میں کمال پیدا ہوتا ہے
بے داڑھی و پگڑی مخنث (ہیجڑے) ہیں مرد نہیں ہوتے
لہذا مرد مرد بنیں مخنث نہ بنیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
