تصوف_وصوفیاء 14
ولی کرامت کب اور کیوں دکھاتا ہے
کشف الحجاب والران عن وجہ اسئلۃ الجان
(جو کہ جنات کے کے لئیے لکھی گئی کتاب ھے)
کے مقدمہ میں امام عبد الوھاب شعرانی فرماتے ہیں
میرے پاس ایک جن ایسے کتے کی شکل میں آیا گویا کہ وہ ریت کا بنا ہوا تھا
خادموں نے اسے بھگانے کی کوشش کی مگر میں نے کہا آنے دو یہ جن ہے
وہ قریب آیا تو اسکے منہ میں ایک ورق تھا جس پہ لکھا ہوا تھا
کیا فرماتے ہیں انسانوں کے علماء ان مسائل کے بارے میں جن مسائل کا جواب ہم جنات کے علماء بھی نہیں دے سکے
آپ نے پڑھا تو اس میں اسی 80 سوال تھے جو علم کلام و تصوف اور فلسفہ سے تعلق رکھتے تھے
ان میں سے سوال نمبر 45 پڑھیں اور جواب دیکھیں
سوال
آپ کے نذدیک اولیاء کی افضلیت کرامات کے زیادہ ہونے سے ہے یا کرامات کے کم ہونے سے ہے
جواب
کرامت کی فضیلت دو جہتوں سے ہے
ایک ولی کی اپنی جانب سے دوسری ولی کے اپنے زمانے کے لحاظ سے
پہلی کہ اسکی ذاتی فضیلت تو وہ یہ کہ ولی بالشت برابر بھی قرآن و سنت سے باہر نہ نکلے
دوسری اسکے زمانے والوں کے لحاظ سے تو وہ یوں کہ جب بھی ولی کی تکذیب زیادہ ہوگی
لوگ ولی کو زیادہ جھٹلائیں گے تو ولی کی کرامات بھی زیادہ ہوتی جائیں گی
تاکہ اسکی صداقت پر دلائل زیادہ ہوتے جائیں
جیسے انبیاء کرام کو جب لوگ جھٹلاتے ہیں تو انکے معجزات بڑھتے جاتے ہیں تاکہ لوگ ایمان لائیں
اور ولی کی تکذیب جتنی کم ہوگی اسکی کرامات بھی کم ہوں گی
معلوم ہوا کثرت کرامات افضلیت کی نشانی نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت پر عمل افضل ہونے کی نشانی ہے
کرامت حق ہے
خلافِ عادت کام کرنے کو کرامت کہتے ہیں
کرامت کی ایک جہت
عام انسانوں کے لحاظ سے ہے مثلاً ہوا میں اڑنا یا پانی پر چلنا
جنابِ غوثِ پاک فرماتے ہیں
ہوا میں اڑنا اور پانی پر چلنا کرامت نہیں ہے یہ تو مکھی اور مچھلی بھی کر لیتے ہیں
اصلِ کرامت تمسکِ شریعت کا نام ہے
دنیا میں رہ کر دنیاوی آسائشوں کی طرف توجہ نہ کرنا پل صراط سے گزرتے ہوئے جہنم کی طرف توجہ نہ کرنا اور جنت میں حور و قصور سے توجہ ہٹا کر الله رب العالمین کے لیئے دنیا و آخرت ترک کر دینا کرامت ہے
کرامت کی دوسری جہت
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مقام و عزت پانا ہے
اور یہی اصلِ کرامت ہے
یہ کتاب بہت لاجواب اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ھے
کوشش کریں پڑھیں ایمان و عقیدہ مضبوط ہوگا عمل کا جذبہ بڑھے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
