تصوف_وصوفیاء 42
°°° نماز کیسے ادا کریں °°°
ایک شخص امام اعظم ابو حنیفہ کی بارگاہ میں آیا اور عرض گزار ہوا
حضور میں نے ایک جگہ اپنا خزانہ دفن کیا تھا مگر اب بھول گیا ہوں
کیا کروں کہ یاد آ جائے؟
امام اعظم نے فرمایا
یہ فقہی مسئلہ تو نہیں ہے مگر تم جاؤ اور ساری رات نماز پڑھو
وہ بندہ گیا اور دوسرے دن آ کر کہنے لگا حضور کمال ہی ہوگیا
ابھی تھوڑی دیر ہی نماز پڑھی تھی کہ کہ مجھے وہ جگہ یاد آگئی
ہماری نمازوں کا یہی کچھ حال ہے کہ شیطان نماز میں وہ وہ باتیں یاد کروا دیتا ہے جو بھول کر بھی یاد نہ آتی ہوں
جب نمازوں میں ہر طرح کا خیال آتا ہے تو نماز کامل کیسے ہوگی؟
نماز کامل نہ ہوئی تو برائی سے کیسے روکے گی؟
نام کے نمازی ہونے سے معاشرہ اچھا نہیں ہوگا حقیقی نمازی ہی معاشرے کا بہترین فرد ہوسکتا ہے
آپ نمازی اچھے نہیں تو معاشرے کے اچھے فرد بھی نہیں ہیں
نماز کی خاص تاثیر جو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمائی وہ برائی سے روکنا ہے
اگر ہماری نماز ہمیں برے اور بے حیائی کے کاموں سے نہیں روکتی تو یقین کریں ہم نمازی نہیں عادی ہیں
ہمیں پانچ وقت وضوء کر کے قیام و رکوع و سجود کرنے کی عادت ہے
نماز مراقبہ ہے
جیسے نماز پڑھنے کا حق ہے ویسے کیسے پڑھیں ؟
آخری نماز سمجھ کر پڑھیں
آنکھیں بند کر کے یکسوئی حاصل ہوتی ہے تو آنکھیں کھولنا مکروہ ہے اور کھول کر یکسوئی حاصل ہو تو بند کرنا مکروہ ہے
الغرض جس طرح بھی نماز میں دل لگے یکسوئی حاصل ہو وہ کام کریں
ترجمے پر غور کریں
کعبہ شریف میں تصور کر کے پڑھیں
تصور جمائیں کہ اللہ رب العزت کو دیکھ رہا ہوں
یا وہ مجھے دیکھ رہا میرے خیالات کو جانتا ہے
کھڑے ہوں تو خود کو مجرموں کی طرح کھڑا سمجھیں
رکوع میں جائیں تو گویا محبوب کو جھک کر منا رہے ہیں
سجدے میں جائیں تو تصور کریں کہ یہ ناک خاک پر رگڑ دی اور اسے راضی کر رہا ہوں
تصور کریں کہ یہی ناک گل سڑ جائے گی
سجدے میں رب العالمین کی رحمت کو قریب محسوس کریں
جب سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلی پڑھیں تو خود کو ناپاک گندہ سمجھیں
آخر میں درود شریف پڑھ کے نماز و دعاء کی قبولیت کا ظن رکھیں اور دعاء مانگ کر سکوں پائیں
نماز یکسوئی سے پڑھیں گے تو سکون و اطمینان کی لہریں محسوس کریں گے
دنیا سے کٹ کر نماز پڑھیں
نماز پڑھیں تو یوں گویا دنیا میں کوئی انسان موجود نہیں نہ شور شرابہ ہے نہ کوئی رنج و الم ہے
اس طرح پڑھیں گے تو نماز میں سکون آئے گا اور نماز کے بعد اگلی نماز تک امن و امان محسوس کریں گے اور اگلی نماز کا انتظار کریں گے
جیساکہ روایات میں نیک لوگوں کی علامت بیان ہوئی ہے کہ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتطار کرتے ہیں
اس کی وجہ یہی ہے کہ نماز میں ان کو اتنا قرار آتا ہے وہ اگلی نماز کا انتظار کرتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
