قابلِ_تقلید_خواتین 17
فاطمة الكردى بنت عیسی الکردی نہایت پاکباز عالمہ فاضلہ خاتون تھیں
ان کے والد شیخ عیسی الکردی اپنے وقت کے بڑے عالم تھے
ایک محفل میں کسی طالبِ علم نے کہ دیا سنا ہے کہ آپ کے شاگرد ابوالخیر المیدانی نے آپ کی بیٹی فاطمہ کے لیئے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ؟
حالانکہ ایسی بات نہیں تھی مگر شیخ نے خوشی سے اپنی داڑھی مبارک پر ہاتھ رکھا
جب اس کی خبر ہونہار طالبِ علم ابو الخیر کو پہنچی کہ شیخ کو خوشی ہوئی تو وہ حاضر ہوئے اور اصل میں نکاح کا پیغام پیش کیا
نکاح ہو گیا حالانکہ فاطمہ کی ایک شادی پہلے ہو چکی تھی مگر شیخ کی خوشی کی خاطر ہونہار طالبِ علم نے ان کی بیٹی سے شادی کی
ابو الخیر المیدانی کے خاندان والوں نے بہت سمجھایا یہ شادی نہ کرو کسی کنواری سے شادی کرو مگر وہ فرماتے
مجھے تو لگتا ہے جیسے کسی عام شہری کو بادشاہ کی بیٹی کا رشتہ مل گیا ہو
جب شادی ہوگئی تو ان کا گھر عورتوں کا قبلہ بن گیا کہ ہر وقت علمی و روحانی مجالس منعقد ہوتی تھیں
ابو الخیر المیدانی اپنی زوجہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے حتی کہ اُن کے آنے پر کھڑے ہو جاتے تھے
ابو الخیر المیدانی ان کی ہر چھوٹی بڑی مانگ پوری فرماتے تھے کیونکہ یہ بڑی علم و فضل والی تھیں
ان کی اولاد نہیں ہوتی تھی تو لوگوں کے کہنے پر دوسری شادی نہیں کی فرماتے تھے میں اپنے استاذ صاحب کی بیٹی کو دنیا کی کسی عورت سے نہیں بدلوں گا اور اولاد کی وجہ سے ان کو تکلیف نہیں دوں گا میرے لیئے میرے طلباء ہی اولاد ہیں
فاطمہ الکردی بھی اپنے شوہر سے بے حد محبت کرتی تھیں
اپنے شوہر سے ہر چھوٹا بڑا کام پوچھ کر کرتی تھیں
جب ابو الخیر المیدانی بیمار ہوئے تو یہ عالمہ فاضلہ خاتون اپنے شوہر کے پاؤں چومتی تھیں اور روتی تھیں
❗ نثر الدرر لابی یوسف المرعشلی ص ٩٦٣ ❗
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا
جب عورت علم و فضل سے مزین ہو اور شوہر علم و فضل والا ہو تو زندگی یوں پیار محبت سے گزر جاتی ہے
بہترین طالبِ علم وہ ہے جو استاذ کی منہ پہ اور پیٹھ پیچھے عزت کا خیال کرے
جسمانی اولاد سے کئی گناہ بہتر روحانی اولاد ہے جو صرف نیکیاں بڑھاتی ہے جبکہ ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی نہیں ہوتی
خاتون حقیقی طور پر علم و فضل, ادب و محبت والی ہو تو شوہر اس کا ہر معاملے میں لحاظ کرتا ہے
اب خواتین یہ بھی نہ تقاضا کریں کہ شادی ہوتے ہی ہمارا ادب و احترام ہمارا لحاظ و خیال شروع ہو جائے
کیونکہ خود کو منوانے کے لیئے خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے
پہلے اپنی رضا شوہر کی رضا پر قربان کریں
اپنی انا مٹا دیں
اپنے علم و فضل سے گھر کو گل و گلزار بنا دیں
اپنے ادب سے گھر کو مہکا دیں
شوہر بھی قربان ہو ہی جائے گا
دینی کام کرنے والی خواتین یہ ضرور مد نظر رکھیں کہ اپنے گھر کے کام کاج مکمل کیئے بغیر ذمہ داری نہ اٹھائیں
عموماً یہی ہوتا ہے کہ گھر کے کام کاج پڑے ہوتے ہیں اور دینی کام کیئے جا رہے ہوتے ہیں
جس کی وجہ سے فتنہ و فساد ہوتا ہے
شریعتِ مطہرہ پہلے آپ کو اچھا گھر بنانے بہترین ماحول ترتیب دینے کا حکم دیتی ہے
فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے لہذا جب جہاں امکانِ نزاع و اختلاف ہو وہاں اولاً گھر بچائیں پھر اصلاحِ ناس کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
