اسلامی_طرزِ_تربیت 228
امام حسںن مجتبیٰ رضی الله عنه اپنے مبارک بالوں کو سیاہ کرتے تھے اور یہ شعر پڑھتے تھے
نُسَوِّدُ أَعلَاهَا وتَأبَى أُصولُهَا
فَلَيتَ الّذي يُسوَدُّ منها هُوَ الأصلُ
ہم اوپر والے بال سیاہ کرتے ہیں جبکہ ان کی جڑیں سیاہ ہونے سے انکار کرتی ہیں
کاش جو سیاہ کیئے جاتے ہیں وہی جڑیں ہوتیں
سیدی عقبہ بن عامر رضی الله عنه اپنے سر کے بالوں پر سیاہ خضاب لگاتے تھے اور یہ شعر گنگناتے تھے
نُسَوِّدُ أعلاها وتَأبَى أصولُها
ولا خيرَ في الأَعلَى إذا فَسَدَ الأصلُ
ہم اوپر والے سیاہ کرتے ہیں جبکہ جڑیں سیاہ ہونے سے انکاری ہیں
اُس بلندی میں خیر نہیں ہے جس کی بنیاد تباہ ہو چکی ہو
❗ المسالک فی شرح المؤطا مالک ❗
جب کسی کی جڑ خراب ہو تو وہ درخت قائم نہیں رہ سکتا
تھوہر کی جڑ گلاب کا پھول نہیں کِھلا سکتی بے اصل کبھی خاندانی نہیں ہو سکتا بد نسل کبھی اعلیٰ نسل نہیں بن سکتا
جَلَّالہ {وہ جو گندگی کھاتا ہو}جانور کا گوشت کھانا مکروہ ہے کیونکہ گندگی کھانے کی وجہ سے اس کے گوشت میں اس گندگی کا اثر اتر آتا ہے تو حکمِ شرع ہے کہ اسے باندھ دیا جائے حتی کہ صاف خوراک کھانے لگے اور اس کے گوشت سے بدبو زائل ہو جائے تو کھایا جائے تو جس آدمی کے خون میں مکر و کذب دغا و شر و شرارت ہو اُس بد خصلت و بد اصل سے خیر کی کیا امید ہوگی ؟
زمین گھٹیا ہو اور بیج اعلی ہو تب تبھی فصل بیکار ہوتی ہے اگر زمین اعلی اور بیج گھٹیا ہو فصل تب بھی بیکار ہوتی ہے
آدمی وہی جو نجیب الطرفین ہو
آپ دیکھیں گے حسد و جلن اور دوسرے کی کامیابیوں پر گھٹن گھٹیا آدمی کا کام ہے خاندانی بندہ مالی لحاظ سے فقیر بھی ہو تو بادشاہوں کی طرح ہوتا ہے جو کسی پر حسد نہیں کرتا
لہذا کسی سے لین دین کریں کسی سے دوستی یاری رکھیں تو اس سے رکھیں جس کی جڑیں مضبوط ہوں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
