تصوف_وصوفیاء 53
سلطان مراد ثانی جن کی ولادت 1403 اور وفات 1451 عیسوی ہے
ان کا نہایت عجیب اور دلچسپ واقعہ ملتا ہے
سلطان مراد کو اپنے وقت کے مشہور ولی حاجی بیرام سے شدید محبت تھی
حتی کہ حاجی بیرام کے تمام مریدین سے ملکی ٹیکس معاف کر دیا تھا
حاجی بیرام ترکی کے مشہور شہر انقرہ میں رہتے تھے
جب انقرہ کے لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو عجیب سا معاملہ ہوگیا
سرکاری ٹیکس لینے والا جس کے پاس جاتا وہ آگے سے کہ دیتا کہ میں حاجی بیرام کا مرید ہوں
ٹیکس وصول کرنے والے حیران و پریشاں ہو کے رہ گئے
جب سلطان مراد کے سامنے شہروں کے ٹیکسز رکھے گئے تو انقرہ سے ایک روپیہ بھی نہیں آیا
سلطان نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ آپ نے حاجی بیرام کے مریدین سے ٹیکس معاف کر دیا ہے
اب ہمیں ہر بندہ یہی کہتا ہے ان کا مرید ہوں تو ہم کیسے ٹیکس لیں؟
سلطان مراد ثانی نے حاجی بیرام کو خط لکھا اور سارا معاملہ عرض کر دیا
حاجی بیرام نے شہر بھر میں اعلان کروا دیا کہ جو مرد و عورت میرا مرید ہے وہ فلاں دن فلاں میدان میں ضرور آئے اور کوئی پیچھے نہ رہ جائے
مقررہ دن پر سارا شہر میدان میں حاضر ہوگیا
کیونکہ شہریوں کو بھی خبر ہوگئی تھی کہ سلطان نے حاجی بیرام کو شکایت کی ہے
میدان کے ایک کنارے پر خیمہ لگا ہوا تھا
حاجی بیرام اس خیمے سے باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے فرمایا
جو مجھے اپنا مرشد مانتا ہے اور اگے آئے اس خیمے میں اس کی قربانی کروں گا اور اس کا خون خیمے کے باہر چھڑکوں گا
ایک نوجوان آگے ہوا اور کہنے لگا
میں آپ کا مرید ہوں
حاجی بیرام اس کو اندر لے گئے وہاں ایک بکری بندھی ہوئی تھی
فرمایا
اسے ذبح کر دو
نوجوان نے ذبح کی اور خون حاجی بیرام نے خیمے کے باہر چھڑک دیا
لوگ دہشت کے مارے ہکے بکے رہ گئے
حاجی بیرام نے پھر فرمایا میرا سچا مرید آگے آئے
ایک اور نوجوان آگے بڑھا
حاجی بیرام اسے بھی اندر لے گئے اور وہی عمل دھرایا
اتنی دیر میں آدھا میدان خالی ہوگیا
حاجی بیرام نے پھر تیسری بار پکارا میرا سچا مرید آگے آئے
اس بار ایک خاتون نے عرض کیا میں حاضر ہوں
اتنی دیر میں سارا میدان خالی ہوگیا
حاجی بیرام علیہ الرحمہ نے سلطان مراد ثانی کو خط لکھا
انقرہ شہر میں میرے صرف تین مرید ہیں دو مرد اور ایک عورت
باقی آپ جانے آپ کا ٹیکس جانے
(روائع من التاریخ العثمانی صفحہ 37)
حاجی بیرام نے خوب دانائی سے مدعیانِ طریقت کی کلاس لی اور گھن اور گندم الگ الگ کر دیئے
آج بھی اگر مشائخ ایسے حیلے کریں تو خوشامد اور چاپلوسی کرنے والے سب مرید فرار ہوں اور پیر صاحب تنہاء رہ جائیں گے
اور پھر یہ جو کھینچا تانی کا ماحول ہے وہ ختم ہو کے رہ جائے
مریدِ صادق بیعت {بِک جاتا} ہو جاتا ہے
یک در گیر و محکم گیر
پھر مرشدِ کامل اپنا خلیفہ بنا لے تو اس کی مرضی یا آستانے پر آنے والے زائرین کے جوتے سنبھالنے کا کام دے دے اس کی مرضی
بہر صورت سر تسلیمِ خم ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
