تکبر کیوں

اسلامی_طرزِ_تربیت 233

سیدی عبد الله بن سلام نے لکڑیوں کا گٹھا خریدا اور خود سر پر اٹھا کے چلے
لوگوں نے عرض کیا
آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں جبکہ آپ کو الله رب العزت نے مالدار بنایا ہے
آپ کسی سے اٹھوا لیں
فرمایا
أردت أن أدفع به الكبر
میں اس کے ذریعے تکبر دور کرنا چاہتا ہوں
❗الاحادیث المختارہ للضیاء الدین المقدسی “
تلبیس ابلیس لابن الجوزی❗

میں بھی اپنے کام خود ہی کرتا ہوں
آٹا میں خود سر پہ اٹھا کے لاتا ہوں
ہمارے جامعہ کی تعمیر کے دوران گٹر والی نالی بند ہوگئی میں نے لکڑی سے صاف کیا
ویسے بھی گھر کی نالی بند ہو جائے میں خود کرتا ہوں
ہم جامعہ میں پڑھتے تھے تو درجہ کی صفائی کی باریاں لگی ہوتی تھیں
میرے ہم سبق مجھے نہیں کرنے دیتے تھے کہ آپ سید ہیں آپ نہیں کریں گے
اور میں پھر بھی صفائی کرتا تھا

کسی بات پر ڈٹ جانا یا کسی کو ڈانٹنا تکبر نہیں ہوتا
عاجزی و تکبر انسان کے الفاظ سے نہیں عمل سے نظر آتی ہے
ہم نے ایسے انسان اکثر دیکھیں ہیں جو لفظوں کی حد تک بہت عاجزی کرتے ہیں مگر عمل میں نہایت متکبر ہیں
انسان خود کی حقیقت سے جاہل بن کر تکبر کیسے کر سکتا ہے ؟
جو دو بار پیشاب کی جگہ سے نکلا ہو وہ کس منہ سے تکبر کرتا ہے ؟
جس غریب مومن کے سامنے آپ تکبر کر رہے ہیں نیچا دکھا رہے ہیں عین ممکن ہے آپ کی لاش اس کی میت سے جلد بدبو دار ہو جائے
پھر تکبر کیسا ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top