عشقِ_سیدِ_عالم 39
مکہ پاک میں جلال مدینہ پاک میں جمال کیوں
اعلیٰ حضرت امام اھل سنت فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 88 پر ارشاد فرماتے ہیں
جب بندہ لا الہ الا الله کہتا ہے تو اسے توحید کا نور حاصل ہوجاتا ھے
اب اس نور کی حفاظت کے لیئے محمد رسول اللہ کہنا ضروری ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
یعنی بندہِ مومن کے ایمان کی حفاظت اس پاک جناب صاحبِ لولاک سیاحِ افلاک کی جانب سے کی جاتی ہے
امام اھل سنت اُس پاک جناب میں عرض گزار ہیں
تو نے ایمان دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا
{ میں اکثر یہی شعر گنگناتا ہوں }
شیخ عبد العزیز دباغ مصری الابریز شریف میں فرماتے ہیں
°°° حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے نور کے ایک تجلی نکلتی ہے جو ہر مومن کے دل میں سماتی ہے اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تجلی روک لیں تو بندہ کافر ہو جاتا ھے °°°
صوفیاء کرام جو اپنے مریدین کی تربیت کے لیئے لا الہ الا الله کا وظیفہ دیتے ہیں وہ بھی یہی ارشاد کرتے ہیں کہ سو دو سو بار لا الہ الا الله پڑھ کر ایک بار محمد رسول اللہ ضرور پڑھنا ھے
صلی اللہ علیہ وسلم
رب العالمین کے نام و کلام و گھر جلال والے ہیبت والے ہیں
جبکہ رحمۃ للعالمین کے نام و کلام و شہر جمال والے ہیں!
امام اھل سنت فرماتے ہیں
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سِیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
یعنی مکہ پاک میں نیکوکار بھی تھرتھراتے ہیں جبکہ مدینہ پاک میں سیاہ کار بھی خوشیاں مناتے ہیں
اور یہ تقریباً ہر اس مومن کا تجربہ ہے جو حرمین شریفین کی حاضری دیتا ھے کہ مکہ پاک میں گھبراہٹ و خوف طاری رہتا ھے جبکہ مدینہ پاک میں امن و سکون جاری رہتا ھے
کیونکہ مکہ رب العالمین کے جلال کا مظہر ہے اور مدینہ رب العالمین کی رحمت کاملہ کا مسکن ہے
الغرض ایمان کی حفاظت چاہتے ہو تو ان کے در پر جا پڑو
جو اس در سے پِھرا اس سے ایمان رخصت ہو جاتا ھے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
