طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 18
••• مطالعہ کہاں سے کیا جائے ••••
دنیا میں سب سے زیادہ جہاں لعنت برستی ہے وہ فیسبک ہے
کیونکہ یہاں ہر جاہل بندہ مفتی بنا بیٹھا ہے
جس کے پاس اردو پڑھنے کی صلاحیت نہیں
جس کے پاس مراۃ المناجیح ہے وہ محدث ہے
جس کے پاس صراط الجنان ہے وہ مفسر ہے
جس کے پاس نماز کے احکام ہے وہ مجتہد ہے
جس کے پاس مکاشفۃ القلوب ہے وہ صوفی ہے
جس کے پاس جاء الحق ہے وہ متکلمِ اسلام ہے
اور جس کے پاس یہ سب ہیں وہ جامع المعقول و المنقول ہے
حدیث پاک میں ہے
من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السموات والارض
جو بغیر علم کے فتویٰ دے اس پر آسمانوں اور زمین کے فرشتوں کی لعنت ہو
ان اردو کتابوں سے دیکھ کر صرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کو پوسٹ بنا کر شیئر کرنے والے خود کو محقق علی الاطلاق سمجھتے ہیں
خبردار کوئی یہ نہ سمجھے نہ کہے کہ مذکورہ کتابوں کی شان میں کمی کی ہے اتنا مقصد ہے کہ اردو کتابوں سے استفادہ کر کے آپ علماء بحث نہیں کر سکتے.
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک مجھے کہا کرتے تھے حضور , سرکار تحریر کیسے لکھتے ہیں
اچھی تحریر کیسے لکھوں؟ وغیرہ
میں ان کو یہی کہتا تھا پڑھو پڑھو اور پڑھو جب علم ہوگا تو پھر یہ پوچھنا نہیں ہوگا
اور آج وہ بے چارے سوشل میڈیا پہ خود پسندی اور شہرت کی طلب میں گم ہو کر مذکورہ کتب سے لکھ کر اور داد وصول کر کے خود کو بڑا سمجھتے ہیں
جن پتھروں بخشیں ہمی نے دھڑکنیں
جب ان کو ملی زباں تو ہمیں پر برس پڑے
ان میں سے کچھ انتشاری و اختلافی موضوعات پر ویڈیو بنا کر مشہور ہوگئے اور آج خود کو پھنے خان سمجھنے لگے ہیں
مجھے تدریس کرتے اور لکھتے دس سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے جب وہ داخلِ مدرسہ ہوئے تب ہم سے ان کے استاد فیض لیتے تھے اور آج وہ آنکھیں دکھاتے ہیں
اے میرے بیٹے
علم مکتبہ المدینہ کے عطاء کردہ مواد سے کہیں زیادہ ہے
علم اردو کتب کے احاطہ سے ہزار درجہ زیادہ ہے
لہذا کنویں سے نکلو اور اپنے مربی و ھادی سے سیکھو سکھاؤ نہیں
الحمد للہ میری پڑھنے کی رفتار بہت تیز ہے
میں ایک دن میں سو عربی کتاب کے صفحات پڑھ لیتا ہوں فتاوی رضویہ کے سو صفحات وہ بھی بعد اوقات ایک عبارت کو سمجھنے میں تین چار بار پڑھ کر ساتھ میں دو اور کتابیں بھی پڑھ لیتا ہوں اور نوٹس بھی بنا لیتا ہوں
یہی وجہ ہے کافی دوست کوئی تحریر پڑھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ تحریر میری ہے اگرچہ آخر میں نام نہ لکھا ہو
مجھے ایک عرصہ ہوگیا پڑھاتے ہوئے جو حقیقت ہے وہ بتانے لگا ہوں کہ بڑے بڑے اساتذہ کے ساتھ اٹھا بیٹھا ہوں جن کے شاگرد بھی پڑھا رہے ہیں وہ استاد صاحب بھی اردو شروحات سے تیاری کرتے ہیں اندازہ لگائیں ان کے شاگرد کتنے ماہر ہوں گے؟
ایسے اساتذہ کے ایسے شاگرد یہاں سوشل میڈیا پہ مفتی مطلق بنے بیٹھے ہیں
علم کلام کی بنیادی باتوں کا علم نہیں مگر خود کو عقائدِ اھلِ سنت کے محافظ سمجھ بیٹھے ہیں
اللہ اللہ ایسا وقت بھی آنا تھا کہ ایسوں نے اسلام کا چوکیدار ہونے کا دعوی کرنا تھا
ان مفتیان مجانین کی وجہ سے کئی بار سوشل میڈیا کو ترک کیا کہ نااھل سے کلام اپنی شان گھٹانا ہے
خامسہ یا سابعہ یا دورہ یا پھر نئی نئی تدریس کرتے بچے خود واقعی میں حرف آخر سمجھتے ہیں
اے طالبِ حق
جو بات سمجھ نہ آئے یا جو بات تجھے اردو کتاب میں ملے اس پہ پختگی اختیار نہ کرو
جب تک اصول کی کتابوں کو خود نہ دیکھ لو اگر اصول کی کتابوں کو دیکھنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر اس پر مباحثہ نہ کرو اسی میں عافیت ہے
مطالعہ ہمیشہ اصول اور امھات کتب سے کیا جائے
اور بڑی مصیبت یہ کہ بے عمل ہونے کے ساتھ ساتھ بد عمل بھی ہیں ہمارے بارے صرف سنی سنائی باتوں پہ اعتقاد جمائے بیٹھے ہوں اور پوچھنے کی زحمت نہ کرتے ہوں تو کاہے کے خادمِ اسلام و محافظِ اھل سنت ہو؟؟؟
کچھ بیمار ذہن صرف مشاجراتِ صحابہ پر بحث کرتے ہیں و بس
ان کے نذدیک ضروریاتِ دین و ضروریاتِ مذہب صرف صحابہ و اہل بیت ہیں
آپ غور کریں آج کل ہر روز نیا مسئلہ فتنہ بن کے سر اٹھاتا ہے وہ کس کے متعلق ہوتا ہے ؟
یہی موضوع کہ جس کے بارے بحث سے منع کیا گیا یعنی مشاجراتِ صحابہ ہے
توحید پر بیان نہیں
بیانِ رسالت نہیں
قبر و حشر کی تفصیلات نہیں
اصلاحِ نفس کے بیان نہیں
صرف اختلافی اور ہیجان خیر موضوعات کو چھیڑتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ ہو
اصلاحِ نفس کی بات کریں گے تو کون سنے گا کون شیئر کرے گا ؟
اس خوف سے اختلافی موضوعات زبان پر عام ہیں
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ علمی و تحقیقی جیسی بھی تحریر لکھ دوں لوگ کاپی کر کے شیئر کر دیں گے مگر کمنٹ نہیں کرتے بس کبھی اختلافی کر دوں تو رش لگ جاتا ہے
اسی وجہ سے عرصہ ہوگیا اختلافی موضوعات پر لکھتا ہی نہیں ہوں
اپنا عقیدہ درست ہے تو فتنوں میں سر دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
