بے چین دل والے پڑھیں اور سکون پائیں

تصوف_وصوفیاء 13

الله رب العالمین کا ذکر زبان سے اتنی کثرت سے کریں کہ دل بھی ذکر کرنا شروع ہو جائے
پھر دل سے ذکرِ الٰہی اتنی کثرت سے کریں کہ روح بھی ذکرِ الٰہی کرنا شروع کر دے

پھر ایک وقت آتا ہے روح عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ ریز ہوتی ہے اور دل دائم الذکر (ہمیشہ ذکر کرنے والا)بن جاتا ہے
اس کی برکت کیا ہوتی ہے ؟
اطمینان و سکون کی لہریں قلب و روح و جسم پر اترنا شروع ہو جاتی ہیں
اتنا سکون اتنا سکون اتنا سکون ملتا ہے کہ مادی پریشانیاں بے ضرر ہوتی ہیں
گھر میں فاقہ ہے تو سکون کیونکہ دل مطمئن ہے
بچہ بیمار ہے تو سکون کیونکہ دل مطمئن ہے
حتی کہ جسم کے اعضاء ادھیڑے جا رہے ہو تو نہ صرف خود پر سکون بلکہ دوسروں کو تسلی دیتا ہے کیونکہ دل مطمئن ہے
کیونکہ معلوم ہے دنیا فانی ہے , تکالیف عارضی ہیں
روح کی غذا یعنی ذکرِ الٰہی تو مل رہی ہے
یہی وجہ ہے اکابر اولیاءِ کرام بھوک و پیاس برداشت کرتے ہیں, اذیت و بیماری سہتے ہیں حالانکہ وہ الله رب العزت کی طرف سے دی گئی روحانی طاقت سے یعنی کرامت سے سب ٹھیک کر سکتے ہیں
سیدی جنید بغدادی فرماتے ہیں
بعض اوقات عارف {الله کا ولی} پیاس کی شدت سے مر جاتا ہے حالانکہ وہ کرامت سے پانی نکالنے پر قادر ہوتا ہے
ایسا اس لیے کرتا ہے کہ وہ راضی رہتا ہے
سیدی و ابی امام زین العابدین کو جب حاکم نے قید میں ڈال کر بیڑیاں پہنا دیں تو ایک شخص نے حال دیکھ کر آہ کی تو امام زین العابدین نے اپنے مبارک ہاتھ و پاؤں بیڑیوں سے نکال دیئے اور فرمایا ان سے نکلنا ہمارے لیئے مشکل نہیں ہے
مگر رب العزت کی رضا میں راضی ہیں
یہ قلبی سکون اور روحانی راحت بھلا کیسے نصیب ہوتی ہے ؟
ذکرِ الٰہی کی کثرت سے کیونکہ اللہ وحدہ لاشریک نے فرمایا

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ
سن لو الله کے ذکر میں ہی سکون ہے

پھر وہ احمق ہی ہے جو ذکرِ خدا کے سوا کہیں اور سکون قرار تلاش کرے
اٹھتے بیٹھتے , چلتے پھرتے , لیٹے اٹھے , وضوء بے وضوء اتنی کثرت سے ذکر کریں کہ زبان عادی ہو جائے
زبان عادی ہوگی تو دل عادی ہوگا اور دل عادی ہوگا تو روح بھی ذکر کرے گی
جب یہ سب ہوتا تو سکون و قرار, چین و راحت کی بارشوں میں نہائیں گے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top