ایک لقمہ اور سات فرشتے

تصوف_وصوفیاء 54

°°° ظاہری و باطنی غذاء کی تاثیر °°°

غذاء کا ایک جزء سات سے زائد فرشتوں کے عمل سے تکمیل تک پہنچتا ہے
❗تفسیرِ المھائمی ❗
لسان العرب میں غذاء کی تعریف یوں بیان کی
ما يكونُ به نَماءُ الجِسْمِ وقِوامُه من الطَّعامِ والشَّرابِ واللَّبن
غذاء وہ شے جس سے جسم کی بڑھوتری اور جسم کی مضبوطی ہوتی ہو مثلاً کھانا پینا اور دودھ وغیرہ
❗لسان العرب ❗
تفسیر میں غذاء کی تعریف یوں کی
لان معنی الغذاء قیام جزء من الطعام یقوم مقام التلف
کیونکہ غذاء کا معنی ہے کھانے کے جزء کا تلف شدہ شے کے قائمقام ہونا
❗تفسیر المھائمی ❗
یعنی جسم کے اعضاء کو بنانا اور بنے ہوئے جسم کو پختگی دینا اور جو پیٹ سے نکل گیا اس کی جگہ لینے والی شے غذاء ہے
پھر آگے ان فرشتوں کی تفصیل بیان کی ہے
ایک فرشتہ غذاء کو گوشت و ہڈی کے قریب لے جاتا کیونکہ غذاء کا ذرہ خود حرکت نہیں کر سکتا
دوسرا فرشتہ اس غذاء کو تھامے رکھتا ہے
تیسرا فرشتہ اسے خون بناتا ہے
چوتھا فرشتہ اسے گوشت یا ہڈی بناتا ہے
پانچواں فرشتہ فاضل مادے الگ کرتا ہے
چھٹا فرشتہ جنس کو جنس سے ملاتا ہے یعنی کس غذاء کو جسم کے کس حصے میں ملانا
ساتواں فرشتہ غذاء و اعضاء کی مقدار متعین کرتا ہے
اور بعض اعضاء مثلاً آنکھ اور دل وغیرہ تو ایسے ہیں جن کو چلانے کے لیئے سو فرشتوں سے زائد فرشتے ہوتے ہیں
اور ان کے ساتھ آسمان کے فرشتے ہوتے ہیں

( تفسیرِ المھائمی لعلاء الدین المھائمی متوفیٰ 835 ھجری )
قرآن کریم نے حکم دیا
وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
اور اپنی جانوں میں کیوں غور و فکر نہیں کرتے

انسان اپنے آپ میں کارخانہَ قدرت ہے
اگر کوئی غور و خوض کرے تو بے ایمان ہو تو ایمان لے آئے ایمان والا ہے تو ایمان پختہ ہو جائے

اب یہاں ایک نکتہَ اول سمجھیں
حدیث مبارکہ میں ہے
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ
جنت میں وہ گوشت نہیں داخل ہوگا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم کا زیادہ حق دار ہے
❗مسند احمد ❗
غذاء حلال ہو یا حرام ہو فرشتے اس سے حکمِ الٰہی کے مطابق جسم بڑھاتے اور عضو پیدا کرتے ہیں
حرام مال سے پیدا ہوا گوشت جنت نہیں جہنم جائے گا کیونکہ جنت میں حرام کا داخلہ نہیں ہوگا
تو ایسی صورت میں اگر وہ بندہ بخشا گیا تو جہنم اس کے گوشت پوست کو جلا دے گی ہڈیاں تک راکھ ہو جائیں گی وہ کوئلہ ہو چکا ہوگا
پھر اسے نہر الحیوان میں غوطہ دیا جائے گا تو اس پر گوشت پوست یوں اگے گا جیسے بارش میں سبزہ اگتا ہے
❗ ملخصاً عن بخاری و مسلم ❗
اصل نکتہ یہ ہے کہ
انسان کے جسم پر حرام کا ذرہ در حقیقت وہ جہنم کی غذاء ہے اور جب تک جہنم کی غذاء اسے نہ ملے گی حرام سے پلا ہوا گوشت جنت میں نہیں جائے گا
کیونکہ جنت حرام اجزاء و اعضاء کو قبول نہیں کرتی کہ جنت پاکیزہ مقام ہے
اسی وجہ سے حلال کھانے والے حلال غذاء سے پلنے بڑھنے والے جنت میں جائیں گے

نکتہَ ثانیہ
جسم کی طرح روح کی غذاء بھی ہوتی ہے
تو جس روح کی غذاء حرام ہو اس کا جنت میں داخلہ حرام ہے
اور جو روح پاکیزہ غذاء پر رہتی ہے وہ دنیا میں ہی عالمِ بالا کی سیر کرتی ہے
کتنے ہی اچھے ہیں وہ مومن کہ جن کے بدن کی غذاء حلال اور روح کی غذاء ذکرِ الٰہی ہے
ان کی روح کی شفافیت کی وجہ سے جسم بھی روح کی طرح لطیف ہوجاتا ہے
اور جس کا جسم لطیف ہوجاتا ہے وہ مشرق و مغرب کی باتیں یوں دیکھتا سنتا ہے جیسے اس کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہو
الغرض اپنی غذاء پر توجہ دیں
ظاہری غذاء پر بھی اور باطنی غذاء بھی توجہ دیں
غذاء پاک ہونے سے جسم و روح کے ایسے کمالات نصیب ہوتے ہیں جن کو عام آدمی تسلیم نہیں کرتا
یہی وجہ ہے دنیا دار اولیاء کرام کی کرامات کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ان کی ظاہری غذاء پاک نہیں ہوتی اور بدعتی گروہ دیوبندی و وھابی اولیاء کرام کے منکر ہیں کیونکہ ان کی باطنی غذاء حرام ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top