تاریخِ_اسلامی 86
سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے فرمایا
إن السيوف لم تخلق للزينة إنما خلقت للجهاد في سبيل الله
تلواریں سجاوٹ کے لیئے نہیں بنائی گئیں بلکہ یہ الله رب العزت کی راہ میں جہاد کے لیئے بنائی گئی ہیں
مزائل و ٹینک اور طیارے سال میں ایک دن نمائش کے لئے نہیں بلکہ جہاد کے لیئے ہیں
یہ بہانہ بے کار ہے کہ فوج وزیر اعظم کی پابند ہوتی ہے
فوج جہاد پر نکلے سیاست دانوں کو عوام سنبھال لے گی
سلطان فاتح نے صرف بائیس سال کی عمر عیسائیوں کا سب سے محفوظ مقام تاریخ میں پہلی بار فتح کیا تھا
محمد بن قاسم نے اٹھارہ سال کی عمر میں سمندر کا سینہ چیر کر سندھ فتح کیا تھا
ان کے پاس صرف ایک اصول تھا مارو یا مر جاؤ چونکہ چنانچہ اگر مگر یہ وہ کچھ بہانے نہیں تھے
محمد فاتح نے جب حملہ کیا تھا تو پوری عیسائی دنیا کے حملہ آور ہونے کا ڈر تھا
عیسائیوں کے دو بڑے فرقے متحد ہونے کا امکان تھا جیسے آج بہانہ لگایا جاتا ہے کہ پاکستان کچھ کرے گا تو ساری دنیا جمع ہو جائے گی مگر سلطان فاتح وہ بائیس سال کا ایمانی قوت سے معمور جوان اس نے کہا مارو یا مر جاؤ قیامت تک اسے سلطان فاتح کے نام سے یاد رکھا جائے گا
اور بزدلوں اور ان کی نسلوں کو بطور حقارت ذکر کیا جائے گا
سیدمہتاب_عالم# ✍️
