ذاتی_مطالعہ 7
سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ عفیفہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
كن لما لا ترجو أرجى منك لما ترجو فإن موسى بن عمران عليه السلام خرج يقتبس ناراً فرجع بالنبوّة
ایسے ہو جاؤ کہ امید نہ رکھنے کی حالت میں زیادہ پر امید بنو امید رکھنے کی نسبت کیونکہ سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام آگ کا شعلہ لینے گئے تھے نبوت لیکر واپس لوٹے
{ درِ منثور, الارج فی الفرج}
یعنی جب تمہیں امید نہ ہو تب ہر شے کی امید کرو کہ مل جائے گی بخلاف اس کے کہ تم امید رکھو کہ فلاں شے مل جائے
فرعون کے جادوگر موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے گئے مگر ان کو امید سے ہٹ کر بہت بڑا ملا یعنی ان کو ایمان مل گیا
ملکہ سباء سیدنا سلیمان علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام سے صرف ملنے گئی تو ایمان امید سے بڑھ کر ایمان کی دولت سے مشرف ہو گئی
جبکہ زلیخا امید پر امید رکھے بیٹھی رہی اس وقت کچھ نہ ملا اور جب امید ختم ہوگئی تو سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام سے شادی ہوگئی
جس رب کے بندے ہیں اس پر چھوڑ دیں وہ آپ کی امید سے بڑھ کر دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
