طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 45
°°° علوم کی خشکی و کچ پن کو کیسے دور کریں °°°
سیر اعلام النبلاء اور تاریخِ دمشق میں ہے
ایک بار امام شافعی کا اپنے شاگرد یونس صدفی کے ساتھ مناظرہ ہوگیا
کچھ دنوں بعد دونوں کی ملاقات ہوئی تو امام شافعی نے یونس صدفی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا
کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اب بھی بھائی بھائی ہیں اگرچہ ایک مسئلہ میں اختلاف ہے
امام ذہبی نے اس پر تعلیقاً لکھا کہ یہ امام شافعی کی کمال سمجھداری تھی
کیونکہ لوگوں کی آراء ہمشیہ مختلف رہتی ہیں
تو کیا باہم بغض و کینہ رکھنا شروع کر دیا جائے ؟
اھل عرب کا مقولہ ہے
کسب القلوب اولی من کسب الموافقات
دِلوں کو جیتنا کسی کو اپنے موافق کرنے سے بہت بہتر ہوتا ہے
اگر کوئی علمی انداز سے آپ سے اختلاف کرے تو امام شافعی کا فعل مبارک قابلِ تقلید ہے
بلکہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک فعل ہمشیہ سامنے رکھا جائے
جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ کو ان کے شوہر کی طرف لوٹنے کا فرمایا تو
عرض کرنے لگی
يا رَسولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
° آپ حکم دے رہے ہیں یا مشورہ ارشاد فرما رہے ہیں °
فرمایا
إنَّما أنَا أشْفَعُ
سفارش کر رہا ہوں
عرض کی
حَاجَةَ لي فِيهِ
پھر میں شوہر کے پاس واپس نہیں جاؤں گی
{ بخاری شریف }
مگر ہمارے ہاں بڑا کوئی مشورہ دے تو وہ مشورہ نہیں تحکم ہوتا ہے
(دھونس , زور زبردستی)
مشورہ سنت ہے مگر خالی الذھن ہو کر نہ کہ ایک چیز کو دل میں جما کر پہلے طے کر کے آنا اور جا کر حکم سنا دیں
علم میں کم اور عمر میں چھوٹے کا مشورہ سننا قبول کرنا سنت فاروقی بلکہ سنت نبوی ہے
°°° آراء و افکار کا اختلاف فطرتِ انسانی کا حسن ہے °°°
اگر سبھی لوگوں کی آراء ایک سی ہوں تو دنیا کتنی بے رنگ و بے ڈھنگ ہوتی غور کریں
سب کے کپڑے, مکان,سواری,انداز,ملک و شہر سب ایک جیسے ہوتے
افکار کے اختلاف نے دنیا کو رنگ برنگا کر کے حسین بنا دیا ہے
مگر مگر مگر
اہم بات یہ ہے کہ جاہل کا عالم سے اختلاف اختلاف نہیں دشمنی ہے
طالب علم کا استاد سے بغیر دلیل کے اختلاف مخالفت ہے
ایک نئے فارغ التحصیل کا ماہر استاد و مفتی سے اختلاف علوم سے دوری کی وجہ سے ہوتا ہے
ہمارے ہاں اکثر یہی ہوتا ہے
نئی فراغت کی خوشی میں اور اگر تدریس جیسی نشست نصیب ہو جائے تو اور بھی نوجوان ہر میدان میں طبع آزمائی فرض جان لیتے ہیں
اور پھر بغیر متون و اصول کتب کی طرف رجوع کیئے بلکہ بغیر ان کو کبھی دیکھے تعلیاں مارتے ہیں
صرف من پسند مقررین کے کلپس سن کر متشدد ہو جاتے ہیں
مزاجِ اسلام سے ناآشنائی اور فقہاءِ امت کے احوال پڑھے بغیر ہر حکم میں جلدی کرتے ہیں
اصفیاء امت کو پڑھے بغیر مزاج میں تندی ہی آئے گی
عوام و خواص میں گفتگو کے لیئے کم از کم ہر بنیادی فن کی کم از کم دس دس کتب تو لازمی پڑھی ہونی چاہئے
فقہ و اصول فقہ,تفسیر و حدیث و اصول و حدیث و اصول تفسیر ,عقائد و تصوف اور سیرِ اسلاف کا گہرا مطالعہ ہونا چاہئے
°°° معاشرے میں عدم توازن اور نت نئے فتنے ظاہر ہونے کی بڑی وجہ خشک علمی و کچ علمی ہے °°°
علم کی خشکی تصوف پڑھنے سے دور ہوگی
اور علم کا کچا پن اصول و متون پڑھنے سے دور ہوگا
نہ خشک علم والے سے بحث کریں نہ کچے علم والے سے تکرار کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
