اسلامی_طرزِتربیت 92
سیاست عبادت کب ہوتی ہے
اخبار الحمقیٰ میں علامہ ابن جوزی نے مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان نقل کیا
ليس من أحد إلا وفيه حمقة فيها يعيش
ہر انسان حماقت میں زندگی گزارتا ہے
کبھی کبھار دل ایک غلطی کرتا ہے مگر عقل سالوں اس پہ شرمندہ ہوتی ہے
اگر آپ اپنی زندگی کے کسی بھی بات یا کام یا فیصلے پر شرمندگی نہیں ہوتی تو جان لیں آپ اسی حماقت میں جی رہے ہیں
سفیان ثوری نے فرمایا
خلق الانسان احمق
انسان پیدا ہی احمق کیا گیا ہے
لہذا خود کو عقل کل سمجھنے کی غلطی کبھی نہ کریں
حماقت انسان میں عیب نہیں کیونکہ وہ فطری شے ہے عیب تب بنتی ہے جب بندہ حماقت پہ اڑ جائے اور مصر و بضد ہو اور سمجھانے والے کی بات پر توجہ نہ دے
حدیث پاک میں ہے
ہر بندہ گناہ گار ہے اور بہترین گناہ گار وہ ہے جو توبہ کر لے
غلطی و خطاء کا کرنا ہر انسان کا کام ہے مگر پھر غلطی کو خود سمجھ لینا یا کسی کے سمجھانے پر ہوش میں آجانا عقلمند کا کام ہے
عقل مند وہ ہے جو غلطی پر بضد نہ رہے بلکہ توجہ دلانے پر رجوع کر لے
نظام سے کسی نے پوچھا حماقت کی کیا حد ہے
کہا
سألتني عما ليس له حد
تو نے ایسی شے کے بارے پوچھا جس کی کوئی حد نہیں ہے
حماقت کیا ہے؟
الحمق فساد في العقل أو في الذهن
عقل یا ذھن میں فساد کا نام حماقت ہے
کسی کی عقل میں خرابی زیادہ ہوتی ہے کسی کے دماغ میں تھوڑی ہوتی ہے
بہرحال ہر دماغ میں حماقت ضرور ہوتی ہے
سب سے بڑی و بنیادی حماقت اسلام قبول نہ کرنا ہے
اور سب سے بڑی و بنیادی عقلمندی ایمان لے آنا ہے
ان دو کے بیچ حماقت کی ہزار ہا منازل ہیں!
نیوٹن, آئن سٹائن، گلیلیو یہ سب احمق ترین لوگ تھے
شیکسپیر, گوئٹے وغیرہ بد عقل ترین لوگ تھے
اور گلی محلے میں بھیک مانگنے والا کلمہ گو عقلمند ترین انسان ہے
گاؤں دیہاتوں میں مسلمان ڈوم مراثی واللہ باللہ تاللہ للہ آئن سٹائن,نیوٹن, شیکسپئر سے زیادہ عقلمند ہے
کیونکہ
رأس العقل, اساسِ عقل, اصلِ عقل اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانا ہے
ایمان کے بعد اللہ رب العزت کو راضی کرنے والے کام کرنا عقلمندی ہے
اسی وجہ
اپنے بچے کو مدرسے بھیجنے والا اس باپ سے زیادہ عقلمند ہے جو اپنے بچے کو اسکول بھیجتا ہے
مال کی زکوۃ نکالنے والا نہ دینے والے سے زیادہ عقلمند ہے
بچوں کو دین پر چلانے والا دنیا سکھانے والے سے زیادہ عقلمند ہے
بچوں کو دینی کتاب لے دینے والا موبائل لیکر دینے والے سے زیادہ عقلمند ہے
فجر میں خود اٹھ کر بچوں کو میٹھی نیند سے اٹھانے والا سونے والوں سے زیادہ عقلمند ہے
دیندار دنیا دار سے زیادہ عقلمند ہے
دینی کاموں پر خرچ کرنے والا بیوی بچوں پر آسائشیں لانے والے سے زیادہ عقلمند ہے
دینی مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے دنیاوی اسکولز و کالجز میں پڑھانے والوں سے زیادہ عقلمند ہیں
دنیا میں مگن رہنے والا احمق اور دنیا چھوڑ کر آخرت کی تیاری کرنے والا عقلمند ہے
*ہر لحاظ سے دین و آخرت کو ترجیح دینے والا ہی عقلمند ہے
اور دنیا کی طرف جھکنے والا احمق ہے
ہم الحمد اللہ ایمان والے ہیں
ہمارے پاس رأس العقل, اساسِ عقل, اصلِ عقل یعنی ایمان ہے
غور کریں
اس کے بعد کے درجات ہمارے پاس ہیں؟
کیونکہ ہر انسان میں حماقت ہے تو جو حماقتوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ممکن ہے وہ مکمل احمق ہو جائے
مکمل حماقت ایمان سے نکل کر کفر میں پڑنا ہے
شعب الایمان میں حدیث پاک ہے
حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ
دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے
دنیا داری حماقت ہے اور جس کے دل میں دنیا جڑ پکڑ لیتی ہے اس سے زیادہ حماقتیں کرواتی ہے!
فساد کی جڑ (یعنی دنیا) دل میں رکھ کر دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنا حماقت ہے
سیاست تب عبادت ہے جب دنیا کی محبت سے خالی ہو
حکمران و سیاست دان ناک تک دنیا کی محبت میں دھنسے ہوتے ہیں
اور عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور عوام بیوقوف بن جاتی ہے
کیونکہ عوام بھی دنیا دار ہے
اگر حکمران دنیا داری سے خالی ہو کر سیاست کریں تو عمر فاروق کو اضافی چادر کی وضاحت دینی پڑتی ہے
اور ایک عام آدمی چوبیس لاکھ مربع کلو میٹر کے مالک سے سوال بھی کر سکتا ہے بلکہ ایک عورت بھرے مجمعے میں عظیم خلیفہ کی بات کا رد کر سکتی ہے
دنیا تباہ ہونے والی اور آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے تو تباہ ہوجانے والی شے کو ہمشیہ سلامت رہنے والی پر فوقیت دینے والا احمق نہیں تو کیا ہے؟
لہذا اگر آپ عقلمند ہیں تو دنیا بقدرِ ضرورت حاصل کریں باقی کو ترک کریں
یہی عقلمندی ہے اگر آپ عقلمند ہیں تو دنیا سے کنارہ کریں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
