عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 76
جو عشق کی آگ میں نہ جلا بھلا وہ انسان ہے؟
جو عشق کی تلوار سے زخمی نہ ہوا وہ کاہے کا انسان؟
جو عشق کی چھری سے ذبح نہ ہوا وہ مردار ہے!
اور مقتولِ عشق بِسمل ہے
جو عشق کے پانی میں نہ ڈوبا وہ بے کار ہے
جو عشق کے صحرا میں نہ جُھلسا وہ ناکارہ ہے
!جس نے عشق کے گلشن و صحرا کے وصل و ہجر کا مزہ نہ چکھا وہ بے ذائقہ نہیں بد ذائقہ انسان ہے
عِشق فِسق نہیں صِدق ہے
عشق وبال نہیں روح کا جمال ہے
تعجب کی بات تو یہ ہے
عشق ہی اصل میں ہوش ہے جبکہ عوام عشق کو جنون کہتے ہیں
کیونکہ ایک ذات کے بارے میں مکمل ہوشمند مند ہوجانا ہی عشق ہے
اور جو اس کے بارے ہوشمند ہو جائے وہ بڑا سیانا ہے
دیوانہ نظر تو اس لیئے آتا ہے کہ اس کے اور محبوب کے درمیان خلل نہ ڈالا جائے
اسے دیوانہ سمجھ کر لوگ چھوڑ دیں
ورنہ اصل عقل مند تو وہی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
