استغفار افضل ہے یا تسبیح افضل ہے

تصوف_وصوفیاء 26

سیر اعلام النبلاء میں امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ایک بندے نے امام ابن الجوزی سے پوچھا
کیا شے افضل ہے ؟
میں بیٹھ کر تسبیح کروں یہ افضل ہے یا استغفار کرون یہ افضل ہے ؟
امام ابن الجوزی نے فرمایا
الثوب الوسخ أحوج إلى الصابون من البخور

گندے کپڑے کو عطر سے زیادہ صابون کی حاجت ہوتی ہے

{یعنی استغفار کرنا افضل ہے }

کیونکہ اسغفار دھونے اور صاف ستھرا کرنے کا کام کرتا ہے جبکہ تسبیحات عطر چھڑکتی ہیں

توبہ و استغفار بندے کی روح , دل کو دھو دیتا ہے جیسے صابون میلے کپڑے کو اجلاس کر دیتا ہے ویسے استغفار میلے دل گناہوں میں لتھڑی روح کو صاف ستھرا کر دیتا ہے

ہم انسان نہایت گناہ گار ہیں
روایت میں ہے
کل ابن آدم الخطاون وخیر الخطائین التائبون
ہر بندہ گناہ گار ہے اور بہترین گناہ گار وہ جو توبہ کر لیتے ہیں
لہذا استغفار بہتر ہے

خاتم المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں
حالانکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے عیب و نقصان سے پاک ہیں

ہاں یہ ضرور ہے کہ صابون خوشبو والا استعمال کرے یعنی اکثر توبہ و استغفار کرے اور ساتھ میں اللہ کی حمد و ثناء و پاکی بھی بیان کرتا ہے اس سے بالکل دور نہ رہے
یاد رکھیں جس میں ایمان کا ذرہ بھی ہوتا ہے وہ کبھی نہ کبھی گناہوں سے تھک جاتا ہے , جرم سے اکتا جاتا ہے, اس کی روح اندر سے فریاد کرتی ہے جس کی وجہ سے بندہَ مومن بے چین ہو جاتا ہے
تو اس وقت استغفار کریں اور ساتھ تسبیح کریں کیونکہ استغفار اندر کے میل دھوتا ہے اور تسبیح دل کو چین بخشتی ہے جیسے خوشبو ہے طبعیت تازہ کر دیتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top