طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 66
طالبِ علم دو صورتوں میں سے ایک کا سامنا کرتا ہے
استاد کی ہر کڑوی کسیلی بات سعادت سمجھ کر برداشت کرتا ہے
یا خود استاد کو ایسا موقع نہیں دیتا کہ اس پر سختی کی جائے
یا تیسری صورت ہوتی ہے کہ استاد متن حل کرے یہ جا وہ جا
علم کی پختگی علم کی روح علم کا نور طلباء کو نہ دے
پہلی قسم کے استاد مخلص ہوتے ہیں مگر طلباء استاد کی سختی برداشت نہ کر کے اپنی عزت نفس کو مقدم کر کے متنفر ہو جاتے ہیں نتیجتاً استاد کے فیض سے محروم رہتے ہیں
دوسری صورت میں آج کل طلباء آٹے میں نمک سے کم مقدر میں ہیں
اور تیسری صورت میں آج کل اکثر استاد ایسا ہی کرتے ہیں نتیجتاً مضبوط علماء تیار نہیں ہو رہے
آپ آج ماہر استاد کے سامنے با ادب رہیں گے تو کل آپ ماہر علماء میں شمار ہوں گے
یاد رکھیں علمِ دین 99 فیصد ادب اور ایک فیصد ذہانت و حافظے پر انحصار کرتا ہے
جوں ادب کم ہوگا توں علم کی روح و نور پھیکا پڑتا جائے گا
میں ایک دہائی کی تدریس کرنے سے یہ بات بھی سمجھا ہوں کہ طالبِ علم کی ذہانت استاذ کا فیض جذب نہیں کرتی بلکہ استاذ کی رضا ایصالِ فیض کرتی ہے
استاذ جس طالبِ علم سے راضی ہو وہ علم کا نور پاتا ہے
مثلاً جو کچھ میں نے کتب اور کتب کے سوا اپنے تجربات و مشاہدات بیان کیئے ہوں
درسی کتب اور ذاتی مطالعہ سے اضافی نکات بیان کیئے ہوں ان سے کما حقہ فائدہ وہی طالبِ علم اٹھا سکتا ہوگا جس سے میں راضی رہوں گا
یہی وہ نکتہ ہے جس سے اکثر ذہین و فطین طلباء غافل رہتے ہیں
استاذ کے علم سے فائدہ ذہانت سے نہیں استاذ کی رضا سے اٹھا سکتے ہیں
ہر آنے والا دور پہلے والے دور جیسے علماء تیار کیوں نہیں کر رہا ہے ؟
یہی نکتہ ہے کہ ان طلباء سے استاذ راضی نہیں ہوتے
اور استاذ کا راضی رہنا غیر مرئی مگر حقیقی تاروں کا نظام ہے جس سے ٹوٹا اس طالبِ علم کو نورِ علم نصیب نہیں ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
