اختلاف اخلاق سے کریں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 100

نماز,
روزہ,
حج,
زکوۃ,
فرض علوم,
باپ ہیں تو بیوی و اولاد کے حقوق,
بیٹے ہیں تو باپ کے حقوق ,
ذی رحم رشتہ دادوں کے فرض حقوق,
امانت,
دیانت,
صداقت پر عمل,
بغضِ مسلم سے پاک سینہ,
غیبت و جھوٹ سے صاف ہونا,
ملازم ہیں تو اجارے کے مسائل جاننا,
مالک ہیں تو ملازمین پر ظلم نہ کرنا,
اگر آپ ان سب فرائض کو ادا کرتے ہیں اور حرام سے بچتے ہیں پھر بھی یقین کریں سوشل میڈیا ہو یا نجی زندگی آپ
پر اختلافی مسائل پر گفتگو کرنا فرض بلکہ واجب بلکہ مستحب بھی نہیں ہے

جبکہ یہاں حال تو یہ ہے لوگ کثیر فرائض کے تارک اور بے شمار حرام کے مرتکب ہونے کے باوجود اختلافی مواد شیئر کرتے ہیں
جبکہ آپ سے ان کے بارے قیامت میں قطعاً سوال نہیں ہوگا کہ فلاں بدمذہب کا رد کیوں نہیں کیا
فلاں ناحق بات پر کیوں نہیں واویلا کیا!

علماء کا کام علماء پر چھوڑ دیں اور علماء بھی وہی عند اللہ ماجور ہوں گے ہو اختلاف ہو اخلاق سے بیان کرتے ہیں

اسلام گالم گلوچ اور دھکم پیل والا بے اصول دین نہیں ہے
اسلام آفاقی دین ہے اخلاق والا دین ہے
جو عالم بازاری زبان استعمال کرتا ہے وہ اسلام و اھلِ اسلام کا بالکل بھی نمائندہ نہیں ہے

کسی بدمذہب کا حکمِ شرعی بیان کرنا مثلاً گمراہ, مستحقِ نار, فاسق, فاجر, ناقابلِ امامت بیان کرنا شدت پسندی نہیں علماء کے منصب کا تقاضا اور یہ بیان کرنا واجب ہے
مگر گالم گلوچ سے بات کرنا ہرگز رضائے شریعت نہیں ہے
جب علماء کا یہ حکم ہے تو عوام دین کی خدمت کے نام پر کس منہ سے بازاری زبان استعمال کر سکتی ہے؟
مخالف فرقے کے رہنماؤں کے نام بگاڑنا, برے القاب رکھنا ان کے لیئے بازاری زبان استعمال کرنا دین میں فتنہ بازی ہے
اور فتنہ باز دین کا خیر خواہ نہیں دشمن ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top