تصوف_وصوفیاء 34
سیدی بایزید بسطامی فرماتے ہیں
ادنى مقامات العارف ان يمر على الماء ويطير في الهواء وأعلاها أن يمر على الدارين من غير ان يلتفت الى من سواه
عارف (اللہ کے ولی) کے مقامات میں سے ادنی مقام یہ ہے کہ وہ پانی پر چل لے اور ہوا میں اڑ سکے
اور اعلی مقام یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی طرف نگاہ کیئے بغیر دنیا و جنت و جہنم کی پرواہ کیئے بغیر گزر جائے اور اسکی توجہ صرف اللہ ربّ العزت کی طرف ہو
جناب غوث پاک نے فرمایا
اڑنا کرامت نہیں اگر ہوا میں اڑنا کرامت ہوتی تو مکھی ولی ہوتی
پانی پر تیرنا کرامت نہیں اگر ہوتی تو مچھلی ولی ہوتی
میں کہتا ہوں آگ میں داخل ہو جانا بھی کرامت نہیں اگر ہوتی تو سمندر نامی کیڑا ولی ہوتا
آگ مسلسل ایک ہزار سال بھڑکتی رہے تو اس میں ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے جو آگ میں ویسے ہی زندہ رہتا ہے جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے جیسے ہی آگ سے نکلے مر جاتا ہے
صوفیاء فرماتے ہیں
الاستقامۃ فوق الکرامۃ
نیکی کے کام پر استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے
ایک شخص حضرت بایزید بسطامی کے پاس فیض لینے آیا دس سال بعد واپس جانے لگا تو کہنے لگا میں نے آپ سے کبھی کوئی کرامت نہیں دیکھی
فرمایا
تم کبھی میرا کوئی کام شریعت سے ہٹ کر دیکھا ؟؟؟
اس نے کہا نہیں
فرمایا
یہ کرامت سے بڑھ کر ہے
یہ حقیقت ہے کہ ظاہری شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے
اسی وجہ نت نئے پیر و بابے مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو عوام کو شعبدہ بازیوں میں الجھائے رکھتے ہیں مگر دین کا علم اور اس پر عمل کی نہ خود کوشش کرتے ہیں نہ تلقین کرتے ہیں
اصل صوفی علم کے ساتھ عمل کا شہسوار بھی ہوتا ہے
بے علم و بے عمل مرشد نہیں ہوسکتا ہاں جہنم کی طرف رہنماء ہو سکتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
