اسلامی_طرزِتربیت 144
آج کا نوجوان اتنا سہل پسند ہوگیا ہے کہ ہر شے آنلائن کرنا چاہتا ہے بلکہ کر ہی لیتا ہے
یہ محبت آنلائن کرتا ہے نکاح بھی آنلائن کرتا ہے حتی کہ جماع بھی آنلائن کر لیتا ہے
(الفاظ و انداز کی معذرت)
ایسا بھی سننے کو ملا ہے کہ کال و میسج پر سب کچھ کر لیتے ہیں
اور اس کے لیئے ایک اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے
افسوس کی بات ہے نام نہاد علماء و طلباء پھر عالمات طالبات اس مرض کا شکار ہیں
° یہ نوجوان مناظرہ بھی آنلائن کرتا ہے اور پھر فتح و شکت کا اعلان بھی آنلائن کر لیتا ہے °
کرونا کے ایام میں غامدی جیسے گھامڑ نے آنلائن جمعہ کی تجویز پیش کی تو سعودیہ نے آنلائن امامت کے لیئے روبوٹ امام پیش کر دیا
اب یہ نماز و روزہ و حج بھی آنلائن کر لیتے ہیں کہ نماز کے فضائل لکھ دو اپنی نماز ہوگئی
حج و زکوٰۃ کے فضائل و احکام کاپی پیسٹ کر دو حاجی و سخی شمار ہو جائیں گے
اب اس پرفتن دور میں عملی جہاد کی حاجت ہے
مگر یہ نوجوان آنلائن جہاد کر کے اپنا حق ادا کر لیتا ہے
یعنی اب اسلامی احکام و مسائل آنلائن ادا کرنے کا دور ہے عملی طور پر میدان میں اترنا کسی کے بس کی بات نہیں
موجودہ صورت حال کے مطابق علماء کرام کو اسرائیل کے خلاف عملی جہاد کی فرضیت کا فتوی دینا چاہے یا کم از کم خطبات میں حکومت کو للکاریں اور امت کو ابھاریں
قلم پکڑ کر حقِ اسلام ادا کرنا آسان ہے اور پھر یہ ہر ایک پہ جچتا بھی نہیں ہے
فضول و لایعنی پوسٹیں کر دینا قلمی جہاد نہیں
نہ تصویر و اسٹیکرز شیئر کرنے سے آپ بری ہو جائیں گے
قلمی جہاد علماء کے مخصوص طبقہ کا کام ہے جس کے قلم میں تاثیر ہے نہ کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا جہاد بالقلم شروع کر دے
قلم کا جہاد صرف ابھارنے کے لیے ہے اور ابھارنا عمل کے لیئے ہو نہ کہ فتنہ و فساد یا محض تحریر جولانیاں ہوں
بات وہی کہ آنلائن حج و جہاد میں خدمتِ اسلام بھی ہے اور انٹرنینمنٹ بھی ہے
تو نوجوان یہی کر لیتا ہے
موبائل و سوشل میڈیا سے ہٹ کر باہری دنیا میں اسلام موجود ہے وہاں کام کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
