آخری دور کے لوگ مراتب میں صحابہ کرام کے قریب ہیں

حوادثِ_آخری_زماں 19


°°° افضلیت کا معیار علم ہے یا قوتِ ایمان °°°

رجالٌ كأنّ المـ،ـوتَ في فمها شهدُ
ایسے مرد کہ موت جن کے منہ میں شہد جیسی ہوتی ہے

ایک تعجب کی بات بتاؤں
آخری زمانے کے مجاہدین کا رتبہ اول زمانے والوں یعنی صحابہ کے قریب تر ہے
وجہ دفاعِ حق ہے
اس دور کے علماء اس زعم میں نہ رہیں کہ علماء کے قلموں کی روشنائی شہید کے خون سے افضل ہے
اصل شے دفاعِ حق اور دفاعِ حق قوتِ ایمان سے زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے
علماء قلموں سے دفاعِ حق کریں گے تو وہ افضل شہداء خون سے دفاع کریں گے تو وہ افضل ہیں
علماءِ سوء تو اس شدید جہاد کے متقاضی دور میں بھی ان کی زبانیں گنگ قلم خشک ہیں
بھلا جو اپنے خون سے دفاعِ اسلام کر رہا ہو اور جو چپ چاپ گونگا شیطان بنا بیٹھا ہو کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟

اب آپ کے ذہن میں سوال آرہا ہوگا کہ ہم نے آج تک مطلقاً علماء کرام کی افضلیت ہی سنی ہے
تو اس کا جواب ہے آپ کے علم میں کمی ہے
حدیث شریف میں ہے

مثل أمتي مثل المطر لا يدرى أوله خير أم آخره
میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے نہیں معلوم اول بہتر ہے یا آخر بہتر ہے
❗ترمذی ❗
اس حدیث شریف کی بناء پر بعض نے آخری زمانہ کے ثابت قدم لوگوں کو عام صحابہ کرام سے بھی افضل قرار دیا ہے
الیواقیت و الجواہر میں عارف باللہ امام عبد الوھاب شعرانی نے شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی کے حوالے سے لکھا ہے
اس پر وہ احادیث شاہد ہیں جن میں فرمایا
فتنوں کے دور میں دین پر ثابت قدم رہنے والے کو پچاس کے برابر ثواب ملے گا
عرض کی گئی ان کے پچاس یا ہمارے پچاس
فرمایا بلکہ تمہارے پچاس کے برابر ان کے ایک کو ثواب ملے گا
❗ابو داؤد ❗
دوسری روایت میں ہے
میں اپنے بھائیوں سے ملنا چاہتا ہوں
صحابہ کرام نے عرض کی ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
فرمایا تم میرے اصحاب ہو میرے بھائی تو وہ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے
❗مسلم شریف ❗
ان احادیث کی شرح میں امام قرطبی و امام ابن عبد البر نے آخری زمانے کے لوگوں کو صغار صحابہ کرام سے افضل تک قرار دیا ہے
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں
صحابہ کرام کو باقیوں پر فضیلت قوتِ ایمان کی وجہ سے ہے
اور تابعین کو اپنے مابعد پر فضیلت علم جمع کرنے کی وجہ سے ہے جبکہ بعض تابعین اکثر صحابہ کرام سے علم میں آگے تھے
اور تبع تابعین کو فضیلت عمل کی وجہ سے ملی ہے جبکہ یہ حضرات تابعین سے زیادہ عمل والے تھے
❗الیواقیت و الجواہر صفحہ 443 ❗
تو اس ساری بحث سے ثابت ہوا کہ افضلیت قوتِ ایمان اور دفاعِ اسلام کی وجہ سے ہے

آخری زمانے والوں کی جو شانیں بیان ہوئی ہیں وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ دین پر ثابت قدم رہنے اور اعلاءِ کلمہ حق کہنے اور دفاع اسلام کرنے کی وجہ سے ہے
جیساکہ شیخِ اکبر نے تصریح فرمائی ہے
اول زمانے والوں کو فضیلت قوتِ ایمان کی وجہ سے ہے
اور آخری زمانے والے اسی قوتِ ایمان سے لبریز ہوں گے تبھی صحابہ کرام کے قریب تر ہوں گے
امام الائمہ مجتہد مطلق مالک بن انس کا فرمان ہے
لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولها
اس امت کا آخر اُسی شے سے ٹھیک ہوگا جس سے اس امت کا اول ٹھیک ہوا
❗کتاب الشفاء للقاضی عیاض ❗
اس امت کا اول قوی ایمان رکھتا تھا آخری حصہ بھی قوی الایمان ہوگا
جب اول و آخر ایمان کی قوت میں قریب ہوں گے تو مقام و مرتبے میں بھی قریب ہوں گے
لہذا علم والے قیل و قال میں مصروف رہیں اور ایمان والے ایمان کی پختگی کرنے میں مصروف ہیں
اور فی زمانہ اھلِ فلسطین کا ایمان سب سے مضبوط ہے
اسی وجہ سے حدیث شریف میں ان کو ہمیشہ حق پر رہنے والے اور طائفہ منصورہ کہا گیا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top